انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 193

دم جلد ۴ ۱۹۳ حقیقته الرؤيا لئے اس کے دشمن دور دور سے ہی چیختے چلاتے رہتے ہیں پاس آنے کی جرأت نہیں کرتے۔یہی دیکھ لو حضرت مسیح موعود جب تک زندہ رہے مخالفین کو مباہلہ کا چیلنج دیتے رہے مگر کسی کو سامنے آنے کی جرات نہ ہوئی۔لیکن اب کہتے ہیں آؤ کر لو۔انہیں یہ معلوم نہیں کہ خدا تعالٰی نتیجہ وہی نکالے گا جو اس وقت نکلتا۔لیکن اس سے ایک مامور اور غیر مامور میں فرق تو معلوم ہو جاتا ہے۔چھٹی علامت یہ ہے کہ مامور سے بزدلی کو بالکل دور کر دیا جاتا ہے۔کوئی کہے کہ رعب کا دیا جاتا اور بزدلی کا دور کرنا ایک ہی بات ہے لیکن یہ درست نہیں ہے۔کیونکہ رعب وہ ہوتا ہے جو دوسرے کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔اس سے یہ نہیں پتہ لگتا کہ جس کا رعب پیدا ہوا ہے وہ بزدل نہیں ہے۔اور جس کے دل پر اس کا رعب چھا گیا ہے اس سے وہ نہیں ڈرتا۔ہو سکتا ہے کہ دوسرے کے دل میں اس کا رعب ہو مگر وہ بھی اس سے ڈرتا ہو۔چند ہی دن کی بات ہے ہمارے ہاں ایک پاگل سی عورت رہتی ہے۔ایک دن سقہ دیر کر کے پانی لایا تو وہ اینٹ لے کر اسے مارنے لگی۔لیکن تھے کے بھاگنے پر وہ خود بھی چیخ مار کر بھاگ گئی۔تھے نے سمجھا کہ یہ مجھے اینٹ نہ مار دے اور اس نے سمجھا کہ منہ مجھے مارنے لگا ہے اس طرح دونوں ڈر گئے۔پس بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی وقت میں دو شخص ایک دوسرے سے ڈر رہے ہوتے ہیں۔لیکن مامورین کی یہ حالت نہیں ہوتی ان سے بزدلی کو بالکل دور کر دیا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود کی نسبت ایک دوست نے سنایا کہ گورداسپور میں مقدمات کے دوران میں ایک شخص حضرت مسیح موعود کے پاس گھبرایا ہوا آیا اور کہا حضور مجسٹریٹ کو دشمنوں نے کہا ہے خواہ کچھ بھی ہو ایک دفعہ قید کر دو اور اس نے بھی ایسا کرنے کا اقرار کر لیا ہے۔آپ لیٹے ہوئے تھے۔آپ کا اس بات کو سن کر چہرہ سرخ ہو گیا اور اٹھ بیٹھے اور پھر نہایت جوش سے کہا کیا کوئی خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال سکتا ہے اس کی کیا طاقت ہے کہ ایسا کر سکے۔اگر کوئی اور ہو تا تو تحقیقات کرا تا کہ بات ٹھیک ہے یا نہیں۔اس سے خوف کھاتا اور گھبرا تا لیکن آپ نے ذرہ بھی پرواہ نہ کی۔وجہ یہ کہ مأمور کا دل نہایت جری ہوتا ہے۔ساتویں علامت یہ ہے کہ جو مامور ہوتے ہیں ان کو علوم دیئے جاتے ہیں اور روحانی امور کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔لیکن آج کل کئی لوگ ہوتے ہیں جو قرآن کا ترجمہ بھی نہیں جانتے اور مامور ہونے کا دعوی کر بیٹھتے ہیں۔جب الہی بخش نے کہا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ مرزا