انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 158

علوم جلد ۴ ۱۵۸ حقیقة الرؤيا (۸) اگر غلط طور پر لیٹنے سے دل کی دھڑکن پیدا ہو تو اس سے بھاگنے کی خواب نظر آتی ہے۔(۹) سوتے ہوئے انسان پر کوئی چیز آگرے تو قتل یا گھر یا دیوار وغیرہ کے گرنے کی خواب نظر آتی ہے۔(۱۰) اگر سوتے ہوئے سردی لگ جائے تو آدمی کو خواب میں یہ نظر آتا ہے کہ جنگل میں پڑا ہوا ہوں یا وسیع سمندر میں بہ رہا ہوں۔(11) اعصاب کمزور ہوں تو قریب کے واقعات اکثر نظر آدیں گے۔(۱۲) اگر اعصابی مرکزوں میں سے کسی مرکز کی طاقت بالکل خرچ ہو جائے تو ایسے شخص کو بار بار ایک ہی قسم کی خواب آتی ہے۔یہ تمام باتیں ایسی بدیہی ہیں کہ ان کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔تجربہ ان واقعات کا شاہد ہے اور مشاہدہ ان امور کو ثابت کرتا ہے۔روز مرہ ایسے واقعات پیش آتے ہیں اور ڈاکٹروں نے خاص طور پر ان کا تجربہ کر کے ان کو پایہ ثبوت تک پہنچایا ہے۔اور ڈاکٹروں کی بھی کوئی خصوصیت نہیں یہ ایسے امور ہیں کہ ان کے تجربہ کے لئے کسی خاص علم یا خاص آلہ کی ضرورت نہیں ہر شخص اپنے طور پر تجربہ کر سکتا ہے خصوصا وہ خواہیں تو بہت ہی ظاہر ہیں جو خاص بیماریوں کا نتیجہ ہوتی ہیں کیونکہ ان کا انکار کوئی کر ہی نہیں سکتا۔پس یورپین فلاسفر کہتے ہیں کہ جب تجربہ خوابوں کو مادی اسباب کا نتیجہ ثابت کرتا ہے اور مشاہدہ اس پر دلیل ہے تو پھر ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اشارات قرار دینا اور حکمتوں پر مبنی قرار دینا جہالت نہیں تو اور کیا ہے۔چونکہ ہر ایک انسان کی نظر باریک میں نہیں ہوتی اس لئے معترضین کے شکوک کا ازالہ شاید ان اعتراضات کو سن کر بعض لوگ خیال کریں کہ واقعی یہ بات کہ خدا کی طرف سے کوئی رؤیا یا خواب ہوتی ہے ایک مشکوک امر ہے۔لیکن اصل بات کیا ہے کسی نے کہا ہے خشت اول چوں نهد معمار سج تاثر یا دیوار سج روو جب کسی عمارت کی بنیاد ہی معمار ٹیڑھی رکھے تو دیوار آخر تک ٹیڑھی ہی ٹیڑھی چلی جائے گی۔ان لوگوں نے جن باتوں کو دیکھ کر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ خواب طبعی امر ہے وہ باتیں بے