انوارالعلوم (جلد 4) — Page 142
انوار العلوم جلد ۴ علم حاصل کرو میں نے اخبارات اور رسالے خریدنے کی طرف توجہ نہیں دلائی کیونکہ ایک اخبار سے مجھے بھی تعلق ہے اس کیلئے میں نے سوچا کہ اس اخبار کو کسی اور کے سپرد کردوں اور موجودہ تعلق کو ہٹا کر تحریک کروں مگر اس وجہ سے کہ ابھی تک وہ اخبار گزشتہ گھاٹے میں ہے کسی کے سپرد نہیں کرسکا۔اب ایک اور طریق خیال میں آیا ہے اور وہ یہ کہ اس اخبار کو وقف کردوں، اس کے سرمایہ میں ایک اور صاحب کا بھی روپیہ ہے لیکن ان کی طرف سے بھی مجھے یقین ہے کہ وہ بھی اپنا روپیہ چھوڑ دیں گے۔پس میں آج سے اس اخبار کو بلحاظ اس کے مالی نفع کے وقف ہی کرتا ہوں۔ہاں اگر خدا نخواستہ نقصان ہوا تو اس کے پورا کرنے کی میں انشاء اللہ کوشش کروں گا۔ہم اس کی کمی کے پورا کرنے کی تو کوشش کریں گے لیکن جو نفع ہو گا اسے نہ میں لوں گا اور نہ وہ بلکہ اشاعتِ اسلام میں خرچ کیا جائے گا۔اس اعلان کے بعد چونکہ مالی منافع کے لحاظ سے کسی اخبار کے ساتھ میرا تعلق نہیں رہا اس لئے اب میں تحریک کرتا ہوں کہ ہمارے دوست اخبارات کو خریدیں اور ان سے فائدہ اٹھائیں۔اس زمانہ میں اخبارات قوموں کی زندگی کی علامت ہیں کیونکہ ان کے بغیر ان میں زندگی کی روح نہیں پھونکی جاسکتی۔گزشتہ زمانہ میں مخالفین کی طرف سے جو اعتراض ہوتے تھے وہ ایک محدود دائرہ کے اندر گھرے ہوئے تھے اس لئے ان کے جوابات کتابوں میں دے دیئے جاتے تھے اور ان کتابوں کا ہی پاس رکھنا کافی ہوتا تھا مگر اس زمانہ میں روزانہ نئے نئے اعتراضات اخباروں میں شائع ہوتے رہتے ہیں جن کے جواب دینے کیلئے اخباروں ہی کی ضرورت ہے اور اسی لئے ہمارے سلسلہ کے اخبار جاری کئے گئے ہیں لیکن اکثر لوگ ان کی خریداری کی طرف توجہ نہیں کرتے جس سے وہ دین کا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ جہاں تک ہو سکے تکلیف اٹھا کر بھی ان کو خریدیں۔اگر ان اخباروں کی اشاعت دو دو ہزار ہو جائے تو وہ نہ صرف اپنا بوجھ اٹھا سکتے ہیں بلکہ موجودہ حالت سے بھی بہتر بنائے جاسکتے ہیں۔بعض لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ان کے نام یونسی وی پی بھیج دیئے جاتے ہیں جنہیں وصول کرنا پڑتا ہے لیکن یہ ان کی شکایت بے جا ہے۔میں نے جبکہ اعلان کرایا ہوا ہے کہ اگر کوئی بغیر تمہارے لکھے کسی کتاب یا کسی اخبار یا کسی اور چیز کا وی پی کرتا ہے سوائے اس تقریر کے بعد گورداسپور جاکر میں نے باقاعدہ طور پر "الفضل" کو انجمن ترقی اسلام کی ملکیت میں دیئے جانے کی درخواست دے دی اور اب وہ انجمن ترقی اسلام کی ملکیت میں ہے۔(خاکسار مرزا محمود احمد)