انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 129

انوار العلوم جلدم ۱۲۹ علم حاصل کرو میرے پیارو یہ صرف ایک شخص کی زندگی اور موت کا سوال نہیں بلکہ سب دنیا کی زندگی اور موت کا سوال ہے اور صرف ایک زندگی اور ایک موت کا سوال نہیں بلکہ بے تعداد زندگیوں اور بے تعداد موتوں کا سوال کیونکہ باقی سب سوال اس جسم کی موت پر ختم ہو جاتے ہیں مگر یہ سوال اس کی موت تک ختم نہیں ہوتا۔پھر کیا تم اس کو اتنی اہمیت بھی نہیں دے سکتے جتنی زندگی اور موت کے سوال کے وقت دیا کرتے ہو۔خوب غور سے سن لو اور خوب اچھی طرح یاد رکھو کہ رسول کریم الین نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم ایک حجت اور غلبہ ہے، ایک دو دھاری تلوار ہے، اس کا ٹھیک استعمال جہاں دشمن کی ہلاکت اور تباہی کا باعث ہوتا ہے وہاں اگر اس کو اپنا دشمن بناؤ گے تو یہ تمہیں کو کاٹے گی۔پس تم قرآن کریم کو مانتے ہوئے اسے اپنے خلاف استعمال کرنے کے مصداق نہ بنو بلکہ اس کے سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرو۔رسول کریم ﷺ نے ثابت کردیا ہے اور حضرت مسیح موعود نے اس بات کو تازہ کردیا ہے کہ جو کوئی قرآن کریم کا قائل ہو کر پھر اس کو ترک کرتا ہے یہ اس کے خلاف ایسی حجت بنتا ہے کہ جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔خداتعالی قرآن کریم کے متعلق ایک درد کا اظہار کرتا ہے اور چونکہ قاعدہ ہے پیارے اور محبوب کے منہ سے نکلی ہوئی بات زیادہ اثر کرتی ہے اس لئے خدا تعالیٰ رسول کریم کی زبانی ہی فرماتا ہے کہ قیامت کے دن ہمارا رسول ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے کہ صداقت کو قبول نہ کیا ہوگا قرآن کی طرف اشارہ کر کے کے گا يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان: ۳۱)۔اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو بالکل ترک کر دیا۔یعنی اس قرآن کو میری قوم نے بالکل چھوڑ دیا اور اس کو نہ سیکھا نہ سمجھا۔یہ ایک نہایت مختصر سا فقرہ ہے مگر اس میں ایسا درد بھرا ہوا ہے کہ یہ میرے سامنے کبھی نہیں آیا کہ میرا دل اس کو پڑھ کر کانپ نہیں گیا۔دیکھو رسول کریم ﷺ یہ نہیں فرماتے کہ اے میرے رب! میری قوم نے قرآن کو بالکل ترک کردیا حالانکہ یہی کہنا کافی تھا بلکہ کہتے ہیں يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا۔اے میرے رب! میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا۔یہاں ھذا کا لفظ بہت ہی درد اور افسوس کو ظاہر کر رہا ہے۔فرماتے ہیں خدایا تونے میری قوم کو یہ ایسی اعلیٰ درجہ کی نعمت دی تھی اور ایسی بابرکت کتاب بخشی تھی کہ جس کی کوئی مثال نہ تھی مگر میری قوم نے اس کو بھی چھوڑ دیا۔تو قرآن کریم اپنے اندر اس قدر j