انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 119

انوار العلوم جلد ۴ 119 علم حاصل کرو ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَ مُؤْمِنَةٍ - آج کل ہمارے انگریزی کس علم کا حاصل کرنا ہر ایک مومن مرد و عورت پر فرض ہے کے دلدادہ اصحاب لوگوں کے سامنے پیش کیا کرتے ہیں کہ دیکھو ہمیں رسول کریم نے انگریزی پڑھنے کا حکم دیا ہے کیونکہ آپ نے فرما دیا ہوا ہے کہ علم کا حاصل کرنا ہر ایک مرد اور عورت کیلئے فرض ہے۔انگریزی بھی چونکہ ایک علم ہے اس لئے اس کے متعلق بھی آپ کا حکم ہے۔ہم مانتے ہیں کہ رسول کریم نے پسند فرمایا ہے کہ مختلف علوم سیکھے جائیں مگر اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے جو پیش کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں آپ نے علم کا حاصل کرنا ہر ایک مومن مرد اور عورت کیلئے فرض قرار دیا ہے جس کا ادا کرنا ہر ایک مومن اور مومنہ کیلئے لازمی اور ضروری ہے اور کوئی اس سے متقی نہیں ہو سکتا اور جو اس پر عمل نہ کرے وہ گناہگار ہو گا۔لیکن اگر اس علم سے مراد حساب جغرافیه تاریخ انگریزی وغیرہ علوم کا سیکھنا ہے تو ماننا پڑے گا کہ (نعوذ باللہ) آنحضرت خود گناہگار تھے کیونکہ آپ نے نہ تاریخ پڑھی نہ جغرافیہ سیکھا نہ حساب سیکھا نہ انگریزی، حالانکہ آپ نے خود اس کو فرض قرار دیا تھا۔پھر اکثر صحابہ بھی گناہگار ہوئے کہ وہ بھی ان علوم کو نہ جانتے تھے لیکن کوئی مسلمان یہ خیال بھی نہیں کر سکتا اس لئے اس حدیث کا یہ مطلب لینا بالکل غلط ہے کیونکہ اس طرح آنحضرت ا اور بہت سے صحابہ کرام کو نعوذ باللہ گناہگار قرار دینا پڑتا ہے کہ انہوں نے کیوں دنیا کے سارے علوم نہ سیکھے اور ان کے ماہر نہ ہوئے۔اگر کہا جائے کہ رسول کریم کی عمر چونکہ بڑی ہو گئی تھی اس کی لئے آپ نے ایسا نہ کیا۔تو یہ بات بھی نہیں کی جاسکتی کیونکہ نبی کو جب بھی کوئی حکم ہو وہ اسی وقت اس کی تعمیل کرتا ہے۔کیا حضرت ابراہیم نے بڑی عمر میں ختنہ نہ کرایا تھا؟ تو نبی کو جو حکم ہو وہ ضرور اس پر عمل کرتا ہے مگر رسول کریم نے جو ایسا نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ یہ دنیاوی علوم کے متعلق نہیں بلکہ دینی علم کے متعلق ہے۔پس اس حدیث سے ثابت ہو گیا کہ آنحضرت فرماتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ دین کا علم سیکھیں خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے جوان ہوں یا بوڑھے مرد ہوں یا عورتیں، لڑکے ہوں یا لڑکیاں، کیونکہ جب تک انہیں یہ حاصل نہ ہو گا خدا کے احکام پر عمل نہ کرسکیں گے اور جب عمل نہ کر سکیں گے تو نجات نہ ہو سکے گی۔پھر جب رسول کریم نے