انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 116

انوار العلوم جلد ۴ 19 علم حاصل کرو - علم کوئی حجاب ہوتا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض دفعہ ایک شخص صرف، نحو، منطق، معانی، حدیث قرآن پڑھا ہوا ہوتا ہے مگر بوجہ تکبر اور ہمچو من دیگرے نیست کے دعوئی کے ایک صداقت کا انکار کر دیتا ہے اور خدا تعالیٰ کے ایک نبی کو نہیں مانتا اور دوسروں کو اس کے ماننے سے روکتا ہے۔لیکن کیا واقعہ میں قرآن کریم اور احادیث اور دوسرے علوم اس کے راستہ میں روک ہوئے ہیں اور ان کی رو سے وہ نبی سچا نہیں ثابت ہوا جسے اس نے قبول نہیں کیا۔اگر ایسا ہے تو پھر تو وہ نبی جھوٹا اور نہ ماننے کے ہی قابل ہے اور اگر ایسا نہیں تو پھر کیلئے صداقت کے قبول کرنے میں روک نہیں ہوا بلکہ تکبر اور نخوت اور جہالت روک ہوئی اور علم نے کسی کو گمراہ نہیں کیا بلکہ اس کے غلط استعمال نے صداقت سے دور کر دیا اور غلط استعمال جہالت کا نتیجہ ہوتا ہے نہ کہ علم کا۔پس جہالت نے اس عالم کہلانے والے شخص کو تباہ کیا ہے، اس کے اس تکمبر نے اسے ہلاک کیا کہ میں بڑا عالم ہوں حالانکہ یہ اس کی جہالت تھی۔پس اگر کوئی مولوی عالم اور پڑھا ہوا انسان غلطی اور دھوکا کھاتا ہے تو علم کی وجہ سے نہیں بلکہ ان باتوں کی وجہ سے جو وہ نہیں جانتا یا جن کو وہ نہیں سمجھتا اور وہ اس لئے صداقت کا انکار نہیں کرتا کہ صداقت کی علامات کو جانتا ہے بلکہ اس لئے کرتا ہے کہ وہ ان کو نہیں جانتا۔مثلاً آج کل اگر ایک مولوی حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے سے انکار کرتا ہے تو اس لئے نہیں کہ قرآن کریم میں کسی نبی کی صداقت کی جو علامات بیان کی گئی ہیں وہ حضرت مرزا صاحب میں نہیں پائی جاتیں بلکہ اس لئے کہ اس نے انہیں پڑھ کر بھلا دیا ہے یا ان کو سمجھ ہی نہیں سکا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسا کہ کوئی کہے کہ میں فلاں بات جانتا 03 ہوں حالانکہ در حقیقت وہ نہ جانتا ہو یا غلط طور پر جانتا ہو۔تو کیا اس کے اس خیال سے کہ اسے جانتا ہے وہ اس کا عالم ہو جائے گا۔نہیں بلکہ وہ اس سے جاہل ہی رہے گا۔مثلاً ایک شخص سانپ کو ری سمجھ لے تو گو اپنے نزدیک وہ عالم ہی ہو گا مگر در حقیقت تو وہ جاہل ہی ہے۔پس محض جاننے کا دعوی کرنا علم نہیں کہلا سکتا بلکہ صحیح طور پر جاننے کو علم کہتے ہیں اور اس سے فائدہ ہی فائدہ ہوتا ہے کبھی نقصان نہیں ہوتا۔پس ثابت ہو گیا کہ جہالت ہی بری چیز ہے علم کوئی بھی برا نہیں ہے۔اب میں یہ ثابت کرچکا ہوں کہ کوئی علم برا نہیں خواہ اونی علم ہو یا اعلیٰ سب اچھے اور مفید ہیں اور ہر ایک سے کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور حاصل ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا ان کے۔