انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 115

انوار العلوم جلدم علم حاصل کرو نہیں۔یہ مان لیا کہ وہ علوم جن کے ساتھ عمل ہوتا ہے ان کا عمل برا ہوتا ہے علم برا نہیں ہوتا۔مگر ایسے علوم جن کے ساتھ عمل نہیں وہ خود برے ہوئے کیونکہ ان کی وجہ سے ایمان ہی خراب ہو جاتا ہے اور خدا کا منکر بننا پڑتا ہے۔اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ یہ علم بھی برے نہیں ہیں۔کوئی فلسفی دہریہ کیوں ہوتا ہے؟ کیا اس لئے کہ واقعہ میں اسے کوئی ایسی دلیل ہاتھ آجاتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ (نعوذ باللہ) خدا تعالیٰ کی کوئی ہستی نہیں ہے۔اگر کوئی ایسی کچی دلیل ہے تو پھر تو خدا کو ماننا ہی نہیں چاہئے لیکن اصل بات یہ ہے کہ وہ فلسفہ کے علم کی وجہ سے دہریہ نہیں ہوتا بلکہ جہالت کی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے نہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے مگر وہ کسی غلط بات کو دلیل سمجھ لیتا ہے۔اسی طرح وہ سائنس کا پڑھنے والا جو خدا کا قائل نہیں رہتا وہ اس لئے خدا کا منکر نہیں ہوتا کہ نیچر سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی خدا نہیں ہے بلکہ نیچر کے غلط مشاہدہ کی وجہ سے وہ ایسا کہتا ہے۔صحیفۂ قدرت تو بتا رہا ہے کہ ضرور کوئی خدا ہے یا ہونا چاہئے۔مگر وہ اس کا غلط استعمال کرتا ہے جو جہالت ہے نہ کہ علم اور یہی جہالت اسے دہریہ بناتی ہے۔دیکھو اگر کوئی شخص منہ میں نوالہ ڈالنے کی بجائے ناک میں ڈالے اور اس کا ناک بند ہو جائے تو کیا کہو گے کہ نوالہ ڈالنے کے علم نے اس کا ناک بند کردیا ہے۔ہرگز نہیں بلکہ یہی کہو گے کہ نوالہ ڈالنے کے متعلق علم نہ ہونے اور جہالت کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔تو عقائد اور ایمان کو خراب کرنے والا کوئی علم نہیں بلکہ ناواقفیت ہے اور ناواقفیت کو علم نہیں کہتے بلکہ جہالت کہتے ہیں۔مثلاً کوئی شخص سمجھ لے کہ انگریزی تعلیم حاصل کرنے سے ملازمت نہیں ملتی اور یہ سمجھ کر انگریزی نہ پڑھے اور ملازمت سے محروم رہے تو یہ نہیں کہیں گے کہ اس علم نے اسے ملازمت سے محروم رکھا بلکہ یہی کہیں گے کہ اس جہالت نے جسے اس نے علم قرار دے کر انگریزی نہ پڑھی تھی ملازمت سے اسے محروم رکھا ہے۔پس ان مثالوں سے اچھی طرح ثابت ہو گیا ہے کہ کوئی بھی ایسا علم نہیں جو مضر ہو بلکہ ہر ایک علم مفید اور فائدہ بخش ہی ہے اور سب کے سب علم بابرکت ہوتے ہیں۔ہاں چونکہ بعض علم ادنی اور بعض اعلیٰ ضرور ہوتے ہیں اس لئے اگر کوئی اعلیٰ کو چھوڑ کر ادنی کو حاصل کرے اور اتنا فائدہ نہ اٹھا سکے جتنا اسے اٹھانا چاہئے تو اس کا یہ فعل برا ہو گا نہ کہ وہ علم برا ہو گا جو اس نے حاصل کیا تھا۔پس یہ کہنا کہ علم حجاب الاکبر ہے ان معنوں کی رو سے درست نہیں ہے کہ واقعہ میں