انوارالعلوم (جلد 4) — Page x
العلوم جلد ہم تعارف رکھنا، حج کرنا خدمت دین کرنا وفات عیسی پر ایمان لانا دعا ئیں کرنا چندہ دینا، تبلیغ کرنا اور تقومی حاصل کرنا۔حضور نے فرمایا کہ یہ چند باتیں ہیں جو میں نے نصیحت کے طور پر بیان کردی ہیں اگر ان کو یاد رکھوگی اور ان پر عمل کرو گی تو فائدہ اٹھاؤ گی۔ربوبیت باری تعالیٰ کائنات کی ہر چیز پر محیط ہے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۹۔اکتوبر ۱۹۱۷ء کو بمقام پٹیالہ یہ تقریر فرمائی۔حضور نے اللہ تعالی کی ہستی ، اسلام اور قرآن کریم کی صداقت اور حضرت مسیح موعود کی سچائی کو صفت ربوبیت کے حوالہ سے ثابت کیا۔حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات اس کی ہستی کا ثبوت ہیں صفات اللہ پر غور کرنے اور ان زبر دست قدرتوں کا مشاہدہ کرنے سے جن کا ظہور ہمیشہ ہو تا رہتا ہے مانا پڑتا ہے کہ ضرور ایک زبر دست عالم ، دانا اور رحیم و کریم ہستی موجود ہے۔حضور نے فرمایا سورۃ الفاتحہ جو اتم القرآن ہے میں ان چار صفات کو بیان کیا گیا جو تمام صفات کا خلاصہ ہیں اور جن پر غور کرنے سے انسان ہر قسم کی بد اعتقادیوں اور بد عملیوں سے بچ سکتا ہے۔مثلاً پہلی صفت رب العلمین ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا تعلق تمام مخلوقات سے ہے۔ہر چیز اس کی ربوبیت سے فیض یاب ہو رہی ہے تو خدا تعالیٰ کا رب العلمین ہونا یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ جس خدا نے جسم کی ربوبیت اور ترقی کے لئے اعلیٰ درجے کے سامان کئے ہیں اس نے روح کی زندگی کے لئے ضرور سامان کئے ہوں گے جو جسم کی نسبت زیادہ قیمتی ہے۔چنانچہ فرماتا ہے وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرُ ہر قوم میں اللہ تعالیٰ کے نبی آئے ہیں جو انسانوں کی تربیت اور روحانی ربوبیت و ترقی کا سامان کرتے رہے۔آخر پر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی ﷺ کو مبعوث فرمایا جنہیں دنیا کی تمام اقوام اور زمانوں کی اصلاح کے لئے بھیجا۔چونکہ آپ کے ذریعہ شریعت کی تکمیل کر دی گئی اس لئے حضور ﷺ نے فرمایا کہ اب میرے بعد خدا سے ہمکلامی کا شرف حاصل کر کے ایسے خدا کے بندے آتے رہیں گے جو لوگوں کو اس شریعت کے مطالب سے آگاہ کر کے انہیں خدا سے ملاتے رہیں گے۔چنانچہ اس زمانہ