انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 595 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 595

العلوم جلد ۳ ۵۹۵ زندون کر اس کی تفصیل بیان کرتا ہو گا تو قطع نظر اس کے کہ اس پر عمل بھی ہو سکتا ہے یا نہیں سامعین اس پر عش عش کرتے ہوں گے۔اور بہت ہی اچھی تعلیم کہتے ہوں گے۔لیکن کیا کوئی ہے جو اس پر عمل کر کے دکھا بھی سکے۔جس زمانہ میں یہ تعلیم دی گئی تھی۔اس وقت بے شک مفید ہوگی۔مگر آج تو اس پر عمل کر کے کوئی قوم زندہ ہی نہیں رہ سکتی۔کوئی انسان اپنے مال و دولت، عزت و آبرو کو نہیں بچا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ مسیحی لوگ بھی اس تعلیم پر عمل نہیں کرتے۔بلکہ اسی تعلیم پر عمل کرتے ہیں جو انتقام لینے کو روا ر کھتی ہے۔چنانچہ میں نے مصر کے ایک اخبار میں پڑھا تھا کہ ایک پادری بازار میں کھڑا لیکچر دیتا ہوا آنحضرت ا کی سخت ہتک کر رہا تھا کہ ایک مسلمان نے اٹھ کر اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا۔پادری آگے سے مقابلہ کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو اس نے کہا۔آپ یہ کیا کرنے لگے ہیں۔دوسری گال بھی آگے کیجئے تا تمہاری تعلیم پر پورا عمل کروں۔اور اس پر بھی تھپڑ ماروں۔پادری صاحب نے کہا کہ اس وقت میں تمہاری ہی تعلیم پر عمل کروں گا اپنی پر نہیں کراؤں گا۔تو گو عیسائیت کی یہ تعلیم اچھی نظر آئے مگر سوال یہ ہے کہ اس کا ہمیں فائدہ کیا ہے تعلیم تو وہی ہونی چاہئے جو کوئی فائدہ بھی پہنچا سکے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ ایک گاڑی نہایت خوبصورت اور عمدہ بنی ہوئی ہو مگر اتنی اونچی ہو کہ کوئی انسان اس پر چڑھ ہی نہ سکے۔جس طرح وہ گاڑی کسی کام کی نہیں ہے اسی طرح یہ تعلیم بھی بے فائدہ ہے۔کیا اس سے ہماری روحانیت کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔یا کیا اس سے ہمارا تعلق خدا تعالیٰ سے ہو سکتا ہے۔یا کیا اس سے ہم گناہوں اور بدیوں سے بچ سکتے ہیں۔یا کیا اس سے ہم ظلمتوں اور تاریکیوں سے نکل سکتے ہیں۔اگر نہیں تو اس کا فائدہ کیا۔اور فائدہ ہو کس طرح جب کہ دنیا اس پر عمل ہی نہیں کر سکتی۔چنانچہ اب موجودہ جنگ کے دوران میں ہی یورپ میں لوگوں نے مضمون لکھے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے کہ انجیل کی اس تعلیم پر کس طرح عمل کیا جا سکتا ہے۔کیا جرمنی نے حملہ کیا تھا تو اسے فرانس بھی دے دیا جاتا۔اگر نہیں تو ثابت ہو گیا کہ اس تعلیم پر عمل ہی نہیں کیا جا سکتا اور اگر کیا جائے تو ساری دنیا تباہ و برباد ہو جائے۔پس جس طرح انجیل کی یہ تعلیم بظاہر تو عمدہ نظر ایک اور مذہب کی ناقابل عمل تعلیم آتی ہے مگر اس پر عمل نہیں ہو سکتا۔اسی طرح ہمارے مقابلہ میں ایک اور مذہب ہے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں بھی ایسی تعلیم پائی جاتی ہے