انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 590

۵۹۰ زنده نم جب انوار العلوم جلد ۳۰ افسر کے سامنے بھی بیہودگی برتے اور بے ادبی کو کام میں لائے بلکہ بہت احتیاط کی جاتی ہے۔اور یہ بات ہم ادنیٰ سے ادنیٰ قوم کے انسان میں بھی دیکھتے ہیں کہ افسر کے سامنے ادب اور تہذیب کی علامات اور آثار ظاہر کرتا ہے۔پس جب یہ بات ہے تو پھر وہ خدا جو بادشاہوں کا بادشاہ اور تعلق شہنشاہوں کا شہنشاہ ہے انسان کا خالق اور رازق ہے اور جس سے نہ صرف اسی دنیا میں ضروری ہے بلکہ مرنے کے بعد بھی واسطہ پڑتا ہے اس کے متعلق کلام ہو اور اس میں سنجیدگی و متانت نہ ہو ہنسی اور مخول سے بات کی جائے کیسے غضب کی بات ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ کی ہستی کا یقین ہو اور پھر وہ ایسا کرے ہر گز نہیں۔مگر بہت لوگ ہیں جو چھوٹے چھوٹے افسروں کا تو بڑا ادب کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے معاملہ میں ادب کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔بحثیں ہوتی ہیں مباحثے کئے جاتے ہیں مگر ان سے یہ منظر نہیں ہو تاکہ تحقیق حق کی جائے۔صداقت کو حاصل کیا جائے بلکہ محض وقت گزارنا اور خوش طبعی اور مذاق کا سامان مہیا کرنا ہوتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بہت لوگ ان کے بحث مباحثہ کو سنتے ہیں مگر کچھ فائدہ نہیں اٹھاتے۔ان کے کان میں تو آواز پڑتی ہے مگر دل میں داخل نہیں ہوتی۔اس لئے یہ طریق نہایت لغو اور بیہودہ ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے متعلق جو گفتگو ہو وہ ایسی ہونی چاہئے کہ جس میں حق کا حاصل کرنا مد نظر ہو اور باطل کو ترک کرنے کا ارادہ ہو۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خدا کا خوف پایا جاتا : ہو۔قرآن کریم میں خدا تعالٰی فرماتا ہے کہ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ (الانفال : (۳) کہ سوائے ان کے اور کوئی خدا کو ماننے والا نہیں کہ جن کے سامنے جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل خوف سے بھر جائیں ، رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور دل ڈر جائیں کہ ہمارے سامنے ایک ایسے عظیم الشان شہنشاہ کا ذکر آیا ہے جس کے متعلق ذرا سی بے احتیاطی کرنے سے بھی تباہی و بربادی کے کنویں میں گر جائیں گے۔واقعہ میں خدا کے ذکر کے وقت انسان کے دل میں ایسا ہی خوف اور ڈر پیدا ہونا چاہئے۔دیکھئے ایک انسان شیر یا سانپ سے نہیں کھیلتا کیونکہ وہ ڈرتا ہے کہ مارا جاؤں گا۔اسی طرح ایک افسر سے ماتحت کبھی بے احتیاطی اور بد تہذیبی نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نقصان اٹھاؤں گا۔اسی طرح اگر خدا کی ہستی کا پورا پورا یقین ہو تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس کے ذکر سے انسان کے دل میں ڈر نہ پیدا ہو۔پس میں ان لوگوں کو جو یہاں موجود ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ایسا انسان جو خدا کے متعلق