انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 538

دم جلد۔۵۳۸ ذکرالی گیارہواں فائدہ یہ ہے کہ تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔حدیث میں آتا ہے فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِى نَفْسِى وَ إِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَاءِ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَاءٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ وَ إِنْ تَقَرَّبَ إلَيَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِ اتَيْتُهُ مَرْوَلَةً (بخاری کتاب التوحید باب قول الله تعالى ويحذركم الله نفسه ( آنحضرت فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ جب دل ہی دل میں میرا ذکر کرتا ہے تو میں بھی اپنے دل ہی دل میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔مثلاً جب انسان کہتا ہے سبحان اللہ یعنی پاک ہے تو اے اللہ تو خدا تعالیٰ بھی اس بندہ کی نسبت کہتا ہے کہ تجھے بھی پاکی حاصل ہو۔اور جب خدا تعالیٰ یہ کہہ دیتا ہے تو حاصل ہو ہی جاتی ہے۔پھر فرماتا ہے جب بندہ لوگوں میں بیان کرتا ہے تو میں ان لوگوں سے بہتر جن میں وہ میرا ذکر کرتا ہے اس کا ذکر کرتا ہوں۔یعنی متقیوں اور نیکوں میں اس کا ذکر بلند کرتا ہوں اور دنیا اقرار کرتی ہے کہ وہ متقی ہے۔بارہواں فائدہ یہ ہے کہ محبت بڑھتی ہے کیونکہ انسان کا قاعدہ ہے کہ جس چیز سے ہر وقت اسے تعلق رہے اس سے انس پیدا ہو جاتا ہے۔حتی کہ جس گاؤں یا شہر میں آدمی رہتا ہے اس سے بھی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔پس جب بندہ صبح و شام بلکہ ہر موقعہ پر خدا تعالیٰ کو بار بار یاد کرتا اور نام لیتا ہے تو آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں بڑھتی جاتی ہے۔ہیں ذکر اللہ کے فوائد جو میں نے مختصر طور پر بیان کر دیتے ہیں۔اور دعا کرتا ہوں کہ آپ لوگوں کو اور مجھے بھی خدا تعالیٰ ان سے مستفید کرے۔آمین