انوارالعلوم (جلد 3) — Page 398
انوار العلوم جلد ۳ ۳۹۸ پیغام صلح کے چند الزامات کی تردید سکتا حتی کہ غیر احمدیوں ، ہندوؤں ، سکھوں اور پھر خوابوں کے ذریعہ سے مجھے رزق پہنچاتا ہے تو مجھے اپنے رزق کے لئے کیا فکر ہو سکتی ہے جو شخص مجھ پر اعتراض کرتا ہے وہ خداتعالی سے ڈرے کہ وہ نہیں مرے گا جب تک کہ اس پر بھی یہ الزام نہ لگایا جائے۔میرا ضمیر اس معاملہ میں صاف ہے اور جس وقت بھی فرشتہ موت میرے پاس آجائے میں اس یقین کے ساتھ جان دے ہوں کہ خیانت یا سلسلہ احمدیہ کے اموال میں کسی قسم کی بے احتیاطی کے بغیر میں نے اس سلسلہ کے اموال کی حفاظت کی ہے اور اس دنیا کو چھوڑنا ہرگز میرے اوپر بوجھ نہیں کیونکہ میں اس دن کو عید کا دن سمجھتا ہوں جبکہ ایمان کے اوپر میرا خاتمہ ہو اور ان ذمہ داریوں سے سبکدوش کیا جاؤں پس اس دنیا کا محب نہیں بلکہ اس سے نفرت کرنے والا ہوں اور وہی شخص اس دنیا کی محبت کا الزام مجھ پر لگا سکتا ہے جس کا دل خود اس گند میں ملوث ہے میرے لئے یہ بس ہے کہ میرا خدا مجھ سے راضی ہے میرے مخالفین کے ناپاک حملوں نے نہ پہلے میرا کچھ بگاڑا اور نہ اب بگاڑ سکتے ہیں خدا تعالیٰ کی مرضی پوری ہوئی اور ہوگی اور اس کے فضل سے دنیا کے چاروں کناروں پر مجھے اور میرے اتباع کو غلبہ حاصل ہو گا اور وہ لوگ جو دشمنی کی آگ میں جل رہے یا منافقانہ طور پر میرے ساتھ ہو کر پھر ان دشمنوں کے ساتھ شامل ہیں آہستہ آہستہ ناکامی و نامرادی کا منہ دیکھیں گے۔ذلت ان کے استقبال کے لئے ہاتھ بڑھائے کھڑی ہے اور رسوائی ان کو بغل گیر کرنے کے لئے ہاتھ پھیلائے کھڑی ہے ابھی کچھ ہی دن ہوئے۔محمد مصطفی ای تمثیلی طور پر تشریف فرما ہوئے اور آپ نے مجھے فرمایا ہم تیری مشکلات کو دیکھتے ہیں اور ان کو دور کر سکتے ہیں لیکن ایک دو یا دو تین کہا) سال تک صبر کی آزمائش کرتے ہیں محمد اس کی روح میری مدد کے لئے جوش مار رہی ہے۔کیونکہ میرے دشمنوں نے مجھے جو اس وقت اس کا سب سے زیادہ عاشق اور سب سے زیادہ محبت رکھنے والا ہوں اور سب سے زیادہ اس کی عظمت کے قائم کرنے کا خواہشمند ہوں اس لئے محمد رسول اللہ ا کی ہتک کرنے والا قرار دیا کہ میں نے کیوں اس کی حقیقی عظمت کو قائم کیا اور اس کے اس درجہ کو دنیا کے سامنے پیش کیا جو اس کی عظمت کا اظہار کرنے والا ہے۔پس وہی پاک وجود بے تاب ہے کہ میری نصرت کے لئے آئے۔اس سے پہلے وہ اس گھائی سے گزرتا ہوا مجھے دیکھنا چاہتا ہے جس میں سے گزرنے کے بغیر کسی شخص نے قرب الہی حاصل نہیں کیا پس میرے دن عید ہیں اور راتیں لیلتہ القدر ہیں کہ محمد رسول اللہ لال کو بھی میری فکر ہے اور میں اپنے دشمنوں کے حملوں پر