انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 336

ر العلوم جلد ۳۰ ۳۳۶ عمر بگذشت و نماند است جز آیا چند به که در یاد کے صبح کنم شامے چند اور میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ اپنا بنایا ہوا شعر رقت کے ساتھ پڑھتے اور وہ یہ ہے از درے تو اے کے ہر بے کسے نیست امیدم که بردم تا امید اور کبھی درد دل سے اپنا یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔۔باب دیده عشاق و خاکپائے کے مرادی است که درخوں تپد بجائے کے حضرت عزت جلشانہ کے سامنے خالی ہاتھ جانے کی حسرت روز بروز آخری عمر میں ان پر غلبہ کرتی گئی تھی۔بارہا افسوس سے کہا کرتے تھے کہ ڈونیا کے بیہودہ خرخشوں کے لئے میں نے اپنی عمر نا حق ضائع کر دی۔" اس تحریر سے جو حضرت مرزا صاحب نے اپنے والد بچپن ہی میں عبادت الہی کا شوق کی اس حالت کے متعلق لکھی ہے۔جس میں آپ کے زمانہ طفولیت اور جوانی کے وقت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسے رنگ میں آپ کی تربیت فرمائی تھی کہ جس کی وجہ سے دنیا کی محبت آپ کے دل میں پیدا ہی نہ ہونے پائی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے والد اور بڑے بھائی کی دنیاوی حالت اس وقت بھی ایسی تھی کہ وہ دنیاوی لحاظ سے معزز و ممتاز کہلاتے تھے۔اور حکام ان کا ادب و لحاظ کرتے تھے۔لیکن پھر بھی ان کا دنیا کے پیچھے پڑنا اور اپنی ساری عمر اس کے حصول کے لئے خرچ کر دینا لیکن پھر بھی ان کا اس حد تک ان کو حاصل نہ ہونا جس حد تک کہ وہ اس پر خاندانی حق خیال کرتے تھے اس پاک دل کو جو اپنے اندر کسی قسم کی میں نہ رکھتا تھا یہ بتا دینے کے لئے کافی تھا کہ دنیا روزی چند و آخرت باخداوند۔چنانچہ اس نے اپنی بچپن کی عمر سے اس سبق کو ایسا یاد کیا کہ اپنی وفات تک نہ بھلایا۔اور گو دنیا طرح طرح کے خوبصورت لباسوں میں اس کے سامنے آئی اور اس کو اپنے راستہ سے ہٹا دینے کی کوشش کی لیکن اس نے کبھی اس طرف التفات نہ کی۔اور اس سے ایسی جدائی اختیار کی کہ پھر اس سے کبھی نہ ملا۔غرض مرزا صاحب کو اپنی بچپن کی عمر سے ہی اپنے والد صاحب کی زندگی میں ایک ایسا تلخ نمونہ دیکھنے کا موقع ملا کہ دنیا سے آپ کی طبیعت سرد ہو گئی۔اور جب آپ بہت ہی بچہ تھے تب بھی آپ کی تمام تر خواہشات رضائے الہی کے حصول میں ہی لگی ہوئی تھیں۔چنانچہ آپ کے