انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 335

دم جلد ۳۰ ۳۳۵ سیرت مسیح موعود اس خاندان کے سالم موضع قادیان پر جو ایک بڑا موضع ہے حقوق مالکانہ ہیں۔اور نیز تین ملحقه مواضعات پر بشرح پانچ فیصدی حقوق تعلق داری حاصل ہیں"۔پیدائش حضرت اقدس زمانہ طفولیت و تذکره والد بزرگوار حضرت مرزا صاحب کے خاندان کے مختصر حالات لکھنے کے بعد ہم آپ کے حالات بیان کرنے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جیسا کہ شروع میں بیان کیا گیا ہے۔آپ ۱۸۳۶ ء یا ۱۸۳۷ء ۳ میں پیدا ہوئے تھے جو کہ آپ کے والد کے عروج کا زمانہ تھا۔کیونکہ اس وقت ان کو جاگیر کے بعض مواضع اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوجی خدمت کی وجہ سے اچھی عظمت حاصل تھی۔لیکن منشائے الہی یہ تھا کہ ایک ایسے رنگ میں پرورش پائیں جس میں آپ کی توجہ خدا تعالی کی طرف ہو۔اس لئے آپ کی پیدائش کے تین ہی سال بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات کے ساتھ ہی سکھ حکومت پر زوال آگیا۔اور اس زوال کے ساتھ آپ کے والد صاحب بھی مختلف تفکرات میں مبتلا ہو گئے۔اور آخر الحاق پنجاب کے موقعہ پر ان کی جائیداد ضبط ہو گئی اور باوجود ہزاروں روپیہ خرچ کرنے کے وہ اپنی جاگیر واپس نہ لے سکے۔جس کا صدمہ ان کے دل پر آخر دم تک رہا۔چنانچہ خود حضرت مرزا صاحب اپنی ایک کتاب میں تحریر فرماتے ہیں۔کہ ”میرے والد صاحب اپنی ناکامی کی وجہ سے اکثر مغموم اور محموم رہتے تھے انہوں نے پیروی مقدمات میں ستر ہزار کے قریب روپیہ خرچ کیا تھا جس کا انجام آخر کار ناکامی تھی۔کیونکہ ہمارے بزرگوں کے دیہات مدت سے ہمارے قبضہ سے نکل چکے تھے اور ان کا واپس آنا ایک خام خیال تھا۔اسی نامرادی کی وجہ سے حضرت والد صاحب مرحوم ایک نہایت عمیق گرداب غم اور جزن اور اضطراب میں زندگی بسر کرتے تھے۔اور مجھے ان حالات کو دیکھ کر ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے کا موقعہ حاصل ہو تا تھا۔کیونکہ حضرت والد صاحب کی تلخ زندگی کا نقشہ مجھے اس بے لوث زندگی کا سبق دیتا تھا جو دنیاوی کدورتوں سے پاک ہے۔اگر چہ مرزا صاحب کے چند دیہات ملکیت باقی تھے۔اور سرکار انگریزی کی طرف سے کچھ انعام سالانہ مقرر تھا۔اور ایام ملازمت کی پنشن بھی تھی۔مگر جو کچھ وہ دیکھ چکے تھے اس لحاظ سے وہ سب کچھ بیچ تھا۔اس وجہ سے وہ ہمیشہ مغموم اور محزون رہتے تھے کہ جس قدر میں نے اس پلید دنیا کے لئے سعی کی ہے اگر میں وہ سعی دین کے لئے کرتا۔تو آج شاید قطب وقت یا غوث وقت ہو تا۔اور اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔دی پنجاب چیفس حصہ اول مطبوعہ شاہ لاہور ے