انوارالعلوم (جلد 3) — Page 8
چند غلط فہمیوں کا ازالہ عبارتوں میں پوشیدہ نہیں ہیں۔لیکن جہاں غور و فکر کے بغیر ہی جواب دینے کا ارادہ ہو وہاں مطلب کو سمجھنے کی کوشش کرنے کی طرف توجہ ہو تو کیونکر؟ لیکن اگر جناب مولوی محمد علی صاحب القول الفصل کے صفحہ 19 کو پھر ایک دفعہ پڑھیں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری جس غلطی کا ازالہ انہوں نے کیا ہے وہ در حقیقت ان کی اپنی ہی غلطی تھی اور یہ کہ انہوں نے بجائے میرے خیالات کا جواب دینے کے اپنی ہی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا ہے۔میرا مذ ہب ہر گز یہی نہیں کہ حضرت مسیح موعود پہلے جزوی نبی تھے اور بعد میں نبی ہوئے۔بلکہ میرے نزدیک حضرت مسیح موعود شروع دعوے سے ایک سے ہی نبی تھے ہاں پہلے آپ اپنے آپ کو جزوی تو نبی قرار دیتے تھے اور اپنے الہامات کی تاویل کرتے تھے۔لیکن بعد میں الہامات میں جب بار بار آپ کو نبی قرار دیا گیا تو آپ نے ان الہامات کی تحریک سے اپنے اس عقیدہ کو بدلا کہ آپ جزوی نبی ہیں نہ کہ آپ کو جزوی نبی سے نبی بنا دیا گیا۔پھر میں نے حضرت مسیح موعود کا جو حوالہ اس خیال کی تائید میں نقل کیا تھا۔اس میں حضرت مسیح موعود اس اختلاف کو وفات مسیح کا سا اختلاف قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ اختلاف بھی دیا ہی ہے جیسا کہ میں حضرت مسیح کی نسبت ایک وقت میں حیات کا قائل رہا اور پھر وفات کا۔اور باوجود اس کے کہ میرا نام عیسی رکھا گیا پھر بھی میں پچھلے مسیح کی دوبارہ آمد کا قائل رہا۔اب غور کرو کہ جب میں نے اپنی تائید میں حضرت مسیح موعود کے اس حوالہ کو نقل کیا تھا جس میں حضرت مسیح موعود نے نبوت کے متعلق اپنی تبدیلی رائے کو حیات و وفات مسیح کے ساتھ مشابہت دی ہے تو میری نسبت یہ کس طرح خیال کیا جا سکتا تھا کہ میں حضرت مسیح موعود کی نسبت یہ خیال کرتا ہوں کہ آپ پہلے جزوی نبی تھے اور بعد میں نبی ہو گئے۔کیا حضرت مسیح ناصری براہین لکھنے کے وقت زندہ تھے اور بعد میں فوت ہو گئے ہیں کہ ہم یہ سمجھیں کہ حضرت مسیح موعود پہلے جزوی نبی تھے اور بعد میں نبی ہوئے ؟ کیا مسیح کی حیات اور اس کے دوبارہ آنے کے متعلق حضرت مسیح موعود کے عقیدہ کی تبدیلی اس طرح نہیں ہوئی کہ باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں حضرت مسیح کی وفات کا ذکر تھا اور باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود کو مسیح موعود قرار دیا گیا تھا آپ حضرت مسیح کو زندہ خیال کرتے رہے اور انہی کی آمد کے منتظر رہے۔اور بعد میں بار بار کے الہامات سے آپ کی توجہ اس طرف ہوئی کہ وہ فوت ہو گئے ہیں اور آپ ہی مسیح موعود ہیں پھر جبکہ آپ اپنی نبوت کے عقیدہ کے متعلق اپنے دو مختلف بیانات کو اسی کے مشابہ قرار دیتے