انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 314

العلوم جلد ۳ ۳۱۴ نجات کی حقیقت کے معاوضہ میں دیتی ہے جو وہ لڑائی میں کر سکتے ہیں۔مگر پھر بھی جو لڑائی میں خاص جرات اور ولیری دکھاتا ہے۔اس کو کئی قسم کے انعام دیئے جاتے ہیں۔حالانکہ جب ملازم رکھا جاتا ہے۔تو اس وقت یہ اقرار لیا جاتا ہے کہ گورنمنٹ کے لئے جان دینی پڑی تو بھی دریغ نہ کروں گا۔آپ جانتے ہیں پھر گورنمنٹ کیوں انعام دیتی ہے۔اس لئے کہ وہ کسی کی خدمت سے خوش ہو جاتی ہے پس گورنمنٹ کا انعام سپاہی کی خدمت کا معاوضہ نہیں ہوتا لیکن ہو تا خدمت ہی کی وجہ سے ہے۔اس طرح خدا تعالیٰ کا نجات دینا ہے۔انسان اعمال کرتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ انسان میں کمزوریاں ہیں۔لیکن جب وہ اپنی طرف سے پورے زور اور کوشش سے اعمال کرتا ہے۔تو اس کے اعمال خدا تعالی کے رحم اور فضل کو کھینچ لیتے ہیں۔اور وہ نجات پا جاتا ہے۔دنیا کے کاروبار میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوئی شخص خاص ہمت اور کوشش سے کام کرتا ہے تو اپنے کام کرانے والے انسان کے رحم کو حاصل کر لیتا ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کوئی کام کرے اور اس کے رحم کو نہ پاسکے۔پس ہمارے نزدیک اعمال ضروری ہیں۔کیونکہ ان نجات کے لئے اعمال ضروری ہیں کے ذریعہ فضل حاصل ہوتا ہے۔اور خدا کے فضل سے نجات ہوتی ہے۔اور جب تک اعمال نہ ہوں نجات ہو نہیں سکتی۔دیکھو ایک انسان کسی پر کیوں رحم کرتا ہے۔اس لئے کہ اس کو دکھ اور مصیبت میں دیکھتا ہے یعنی اس شخص کا دکھ اس کے رحم کو کھینچتا ہے تو ہر بات کے لئے کوئی نہ کوئی ذریعہ ہوتا ہے خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کا پہلا ذریعہ اعمال ہیں اسی لئے اسلام نے اعمال پر بہت زور دیا ہے۔لیکن نجات خدا کے فضل پر ہی رکھی ہے۔آنحضرت ا نے پوچھا گیا۔کہ نجات کے لئے اعمال پر بھروسہ ٹھیک نہیں! آپ کی نجات تو اعمال کی وجہ سے ہوگی۔آپ نے فرمایا۔نہیں میری نجات بھی خدا کے فضل سے ہو گی۔آنحضرت ا سے بڑھ کر اور کوئی شخص درجہ نہیں رکھتا۔جب آپ فرماتے ہیں کہ میری نجات خدا کے فضل سے ہوگی۔تو اور کون ہے جو اپنے اعمال پر بھروسہ رکھ سکے۔ہاں فضل کے لئے اعمال کا ہونا ضروری ہے۔اور اسی تھیوری کو اسلام پیش کرتا ہے۔اس سے آپ عیسائیت کی تھیوری کا مقابلہ کرکے دیکھ لیں کہ کون غلط اور کون درست ہے۔سے مسلم شرح النووی - صفات المنافقين و احكامهم - باب لن يدخل احد الجنة بعمله بل برحمته الله