انوارالعلوم (جلد 3) — Page 284
نلوم جلد ۳۰ ۲۸۴ اسلام اور دیگر مذاہب (ترندی ابواب البر والصلة باب ماجاء فی اماطة اذى عن الطريق اور آنحضرت ﷺ نے اس فعل کو صدقات میں شامل فرمایا ہے۔اور یہ وہ تعلیم ہے جس کی مثال اور کوئی مذہب نہیں پیش کر سکتا۔جانوروں سے نیک سلوک اسلام نے جہاں انسانوں پر شفقت کا حکم دیا ہے وہاں جانوروں پر شفقت کی بھی سخت تاکید کی ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَفِی اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ( الدايت یعنی مسلمان وہ ہوتا ہے کہ اس کے مال میں ان کا جو سوال کر سکتے ہیں یعنی انسانوں کا اور ان کا جو سوال نہیں کر سکتے یعنی جانوروں کا حق ہوتا ہے۔یعنی مسلمان کا کام ہے کہ وہ اپنے مال میں محتاج انسانوں اور جانوروں کو بھی شریک کرے۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ جانور کو ایذاء دینا سخت منع ہے حتی کہ آنحضرت ﷺ نے ایسے انسان پر جو کسی جانور کو باندھ کر اسے نشانہ بناتا ہے لعنت کی ہے اور یہ آنحضرت ہی ہیں جنہوں نے جانوروں کے مونہہ پر نشان لگانا منع کیا کہ مونہہ ایک نازک جگہ ہے اس پر نشان نہ لگایا کرو۔اور آپ نے جانوروں کی پچھلی ران کے اوپر کے سرے پر نشان لگانے کا حکم دیا جو رواج کہ اس وقت عام طور پر دنیا میں پایا جاتا ہے۔اسی طرح آنحضرت ﷺ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ایک بلی کو بند کر دیا اور وہ بھوکی پیاسی مرگئی تو خدا تعالٰی نے اس کو جنم میں ڈال دیا مسلم کتاب البر والة والاها با تحت التعذيب المرة ) یعنی اس ظلم کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایسے اعمال میں پھنس گئی جن کا نتیجہ جنم ہوا۔غرضی جانوروں سے بھی نیک سلوک کرنے کا حکم اور ان پر بے جا ظلم کرنے اور بے فائدہ تکلیف دینے سے اسلام نے روکا ہے اور اس طرح اپنی تعلیم کو ہر رنگ میں کامل کر دیا ہے۔اور کسی خاص بات پر ہی زور نہیں دیا۔بلکہ انسانی زندگی کے ہر شعبہ اور اس کی ہر ضرورت کے متعلق مناسب اور عدل پر مبنی احکام بتائے ہیں جن پر عمل کرنے سے انسان اس دنیا اور اگلے جہان دونوں جگہ خوش و خرم ہو سکتا ہے۔پس اسلام ہی ایک مذہب ہے جو تمام دنیا کے لئے قابل عمل ہے اور وہی ایک ایسا مذہب ہے جس کی تعلیم پر ہر ایک طبقہ اور ہر ایک طبیعت کے انسان عمل کر سکتے ہیں۔اور جس پر عمل کر کے کوئی مفسدہ پیدا نہیں ہوتا۔اور جو ہر زمانہ کے لئے قابل عمل ہے اور اس پر چل کر انسان نجات پا سکتا ہے۔اور جو خوبیاں تمام مذاہب مختلف طور پر رکھتے ہیں وہ سب کی سب اس میں جمع ہیں اور یہ تمام مفید اور بابرکت تعلیمات کو اپنے اندر