انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 262

۔۲۶۲ اسلام اور دیگر مذاہب وَالْإِحْسَانِ وَابْتَلَى ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ، يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ۔(النحل : (۹) یعنی اللہ تعالٰی تم کو عدل اور احسان اور ایتاء ذی القربی کا حکم دیتا ہے اور تم کو فحشاء اور منکر اور بغاوت سے روکتا ہے وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے تا تم اپنی اصلاح کر لو۔اس آیت میں خدائے تعالیٰ نے ہر ایک مسلمان کو تین باتوں کا حکم دیا ہے اور تین باتوں سے روکا ہے۔گویا ایک حکم کے مقابلہ میں ایک نہی ہے اور ہر ایک نیکی جس کے کرنے کا حکم دیا ہے اس کے مقابل کی بدی کو بھی بیان کر دیا ہے کہ اس سے تم کو بچنا چاہئے۔پہلا زینہ جس پر ایک مومن کو چڑھنے کا حکم دیا ہے وہ عدل کا زینہ ہے یعنی کسی کی حق تلفی نہ کرے۔اگر کسی کے ہاں ملازم ہے تو اس کا کام دیانت سے کرے جتنی تنخواہ لیتا ہے اس کے مطابق حسب معاہدہ کام بھی کرے اگر مزدور ہے تو محنت سے اپنا وقت اس شخص کے کام میں صرف کرے جس نے اس کو لگایا ہے اگر کسی کا کوئی روپیہ دینا ہے تو اسے ادا کرے اگر کسی کا کوئی اور حق ادا کرنا ہے تو دیانت سے ادا کرے۔غرض اپنے ہر ایک فعل میں عدل سے کام لے اور کسی کی حق تلفی نہ کرے پورا پورا حق ادا کر دے۔اس کے بعد فرمایا کہ عدل کے زینہ پر جب مؤمن چڑھ جائے تو پھر اسے چاہئے کہ احسان کے زینہ پر قدم رکھے یعنی نہ صرف اسے اس بات کا خیال رہے کہ میں ہر ایک شخص کے حقوق پورے پورے ادا کر دوں بلکہ اب اس کی ایمانی حالت اس درجہ تک ترقی پا جائے کہ وہ لوگوں کے حقوق ادا کر کے اپنی طرف سے بھی کچھ بطور احسان ان کو دے اور لوگوں کے ساتھ عدل کرنا تو اس کے لئے ایسا ہو جائے جیسے ایک معمولی بات ہے اور اس کو اب اس بات کی فکر رہے کہ میں اپنی طاقت اپنی قوت ، اپنے مال اپنی دولت اپنی عزت اپنی وجاہت سے کس طرح لوگوں کو فائدہ پہنچاؤں اور جب وہ اس درجہ کو بھی پالے تو ایک مسلمان کو چاہئے کہ اس سے بھی بلند ہو اور احسان کرنا بھی اس کی نظر میں ادنی ہو جائے اور وہ ایتاء ذی القربیٰ کا درجہ حاصل کر کے جو احسان سے بہت بڑا درجہ ہے۔اور احسان میں اور ایتاء ذی القربیٰ میں یہ فرق ہے کہ احسان ایک آدمی دوسرے آدمی سے بعض حالات کے ماتحت کرتا ہے یعنی کسی کو تکلیف میں دیکھا اور اس پر رحم آگیا تو اس پر احسان کر دیا۔کسی نے کبھی پہلے کوئی سلوک کیا ہوا ہو تو اس کا بدلہ اتار کر اس کے احسان کو یاد کر کے اس کے ساتھ کچھ مروت کر دی غرض عام احسان کا محرک ہمیشہ رحم یا شفقت ہوتی ہے لیکن ایتاء ذی القربی یعنی قریبوں کو دینا رحم و شفقت کا نتیجہ نہیں ہوتا ایک ماں اپنے بچہ کی خدمت