انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 261

ر العلوم جلد ۳۰ ۲۶۱ اسلام اور دیگر مذاہب بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔(بخاری کتاب الصیام باب صوم الدهر) اسی طرح جسم کے بعض اعضاء کے ضائع کرنے کی نسبت حدیث میں آتا ہے کہ جب بعض صحابہ نے ساری عمر مجرد رہنے کیلئے یہ تجویز کی کہ وہ اپنے آپ کو خصی کر لیں تو رسول کریم نے ان کو منع فرمایا اور شادی نہ کرنے کے خیال کو بھی رسول کریم نے ناپسند فرمایا ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ لَا رَهْبَانِيَّةَ فِي الْإِسلام (المبسوط سرخی جلد ۱۰ صفحه (11) اسلام میں رہبانیت نہیں یعنی اسلام مسیحیوں کی طرح مانکس (Monks) اور ننز (Nuns) بننے کی اجازت نہیں دیتا۔پچھلے تمام حوالہ جات سے آپ لوگوں نے سمجھ لیا ہو گا کہ اسلام نے کس طرح شفقت علی خلق اللہ کے اس حصہ کے متعلق بھی کامل اور مکمل تعلیم دی ہے اور کس طرح افراط و تفریط سے اجتناب کر کے میانہ روی کی طرف مسلمانوں کو متوجہ کیا ہے اور ایسے احکام دیتے ہیں جو ہر زمانہ اور ہر ملک میں جاری ہو سکتے ہیں اور اگر ایک طرف جسم انسانی کو روح کا شریک حال کرنے کے لئے بلکہ روحانی طاقت کو بڑھانے کے لئے جسم کو بھی ریاضت اور عبادت میں شریک کیا ہے تو دوسری طرف اس کی تربیت کی ہے اور اس کی ضروریات کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے اور اسلام نے تو یہاں تک صحت انسانی کا خیال رکھا ہے کہ ان مختصر سی عبادات میں بھی جو مسلمانوں کے لئے مقرر کی ہیں بیماری اور سفر کی حالت میں بہت کچھ سہولت رکھ دی ہے تاکہ کسی انسان پر وہ بوجھ نہ ہوں اور کسی کی طبعی قوتیں اور استعدادیں اس سے تباہ نہ ہو جائیں۔پس اس حصہ شریعت کے متعلق بھی صرف اسلام ہی ایک ایسانہ ہب ہے جو ایسی کامل تعلیم پیش تو کرتا ہے جس پر تمام دنیا کے انسان عمل کر سکتے ہیں۔دوسرے انسانوں سے سلوک دو سرا حصہ شفقت علی خلق اللہ کا وہ تعلیم ہوتی ہے جو کسی مذہب نے اپنے پیروؤں کو اپنے سوا دوسرے بنی نوع انسان سے سلوک کے متعلق دی ہوتی ہے۔پس پہلے حصہ سے فارغ ہو کر ہم اس حصہ کے متعلق کچھ بیان کرتے ہیں تا معلوم ہو کہ اس میدان میں بھی اسلام ہی دیگر ادیان پر غالب ہے مگر پیشتر اس کے کہ اس حصہ کے متعلق ہم کچھ تفصیل دار بیان کریں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تمام بنی نوع انسان سے سلوک کرنے کے متعلق جو تعلیم اجمالی طور پر قرآن کریم میں مذکور ہے پہلے بیان کر دی جائے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ