انوارالعلوم (جلد 3) — Page 241
موم جلد ۳۰ امم اسلام اور دیگر مذاہب دعوی کرتی تو اس کا یہ مطلب ہو تا کہ یا تو قیامت تک باوجود تمدن کی ترقی کے اور بنی نوع انسان کے جسمانی اور روحانی اختلاط کے خدائے تعالیٰ نے بلاوجہ نعوذ باللہ کل انسانوں کو نم با جدا جدا رکھنا چاہا ہے اور اس اتحاد سے جو تمام ترقیات کی جڑھ ہے محروم رکھنا پسند کیا ہے اور یا پھر یہ قبول کرنا پڑتا کہ اللہ تعالیٰ نے باوجود انسان کے ہر رنگ میں ترقی پا جانے کے کامل شریعت سے اسے حصہ نہیں دیا اور ان شرائع کو بلا ضرورت بلکہ خلاف مصلحت جاری رکھا جو کہ صرف خاص اوقات اور خاص زمانہ کے ساتھ تعلق رکھتی تھیں اور یہ دونوں باتیں کوئی دانا انسان قبول نہیں کر سکتا۔پس چونکہ دیگر کتب نہ تو سب جہان کیلئے تھیں اور نہ ان کی تعلیم انسانی اعمال کے تمام شعبوں کے متعلق احکام پر حاوی تھیں اس لئے ہر گز ضروری نہ تھا کہ ان کی خاص طور پر حفاظت کی جاتی۔اور ان کا حال ایسا ہی تھا کہ جیسے کسی ضرورت کے وقت ایک جگہ پر عارضی کیمپ لگائے جاتے ہیں تو ان کی حفاظت اس رنگ میں نہیں کی جاتی جس رنگ میں ان عمارتوں کی جو ہمیشہ کے قیام کیلئے بنائی جاتی ہیں کیونکہ اول الذکر کا فائدہ صرف عارضی ہوتا ہے اور اس فائدہ کے حاصل ہو چکنے کے بعد اس کی ضرورت نہیں رہتی لیکن آخر الذکر کے ساتھ ہمیشہ کا تعلق ہوتا ہے اس لئے اس کی حفاظت کی جانی ضروری ہوتی ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ تمام مذاہب میں سے صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب قرآن کا دعویٰ ہے جس کی الہامی کتاب نے دعوی کیا ہے کہ وہ تمام انسانوں اور تمام آئندہ زمانوں کیلئے ہے جیسا کہ فرمایا کہ وَ أُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لا نَذِرَكُم بِهِ وَمَنْ بَلَغَ ، ) الانعام (۲۰۰) یعنی اے زمانہ کے لوگو ! یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیا ہے، تاکہ میں تم کو اں کے ذریعہ سے خدائے تعالیٰ کے غضب سے ڈراؤں اور ان کو بھی جن کو یہ قرآن پہنچتا جائے یعنی اس کتاب کے متعلق کسی خاص زمانہ اور کسی خاص ملک کی شرط نہیں جسے اس کی خبر ملے اس پر اس کا ماننا اور اس پر عمل کرنا فرض ہے۔لہ اسی طرح اسلام ہی ایک ایسا مذ ہب ہے جس کی الہامی کتاب نے یہ دعوی کیا ہے۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَاتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي - ( المائدہ : ۴) یعنی آج کے دن میں نے تمہارے لئے تمہارا دین ہر رنگ میں کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی ہے۔اور ان دونوں باتوں کا لازمی نتیجہ تھا کہ اس کتاب کی نسبت یہ بھی کہا جاتا کہ خدائے تعالیٰ اس کی حفاظت کرے گا کیونکہ جو کتاب کامل ہو گئی اس کے منسوخ کرنے کی ضرورت نہیں اور جو ہر زمانہ کیلئے ہے اس کی حفاظت کئے بغیر چارہ نہیں