انوارالعلوم (جلد 3) — Page xxvi
رالعلوم جلد ۳ ۱۹ تعارف کتب (۱۷) ترقی اسلام کے متعلق حضرت خلیفہ المسیح کا ارشاد ستمبر ۱۹۱۷ء کو حضرت فضل عمر نے اس چھوٹے سے پمفلٹ میں جماعت کو اشاعت و تبلیغ کے سلسلہ میں ان کی ذمہ داریوں کی طرف نہایت موثر رنگ میں توجہ دلاتے ہوئے نصیحت فرمائی کہ : اسلام پہلے بھی اپنے بے نظیر حسن کے ذریعہ سے لوگوں کے دلوں کا فاتح ہوا تھا اور اب بھی انہی لوگوں کے قلوب کو فتح کرے گا اس لئے ہمارا فرض ہے کہ جہاں تک ہو سکے اسلام کو اس کی اصلی خوبی کے ساتھ دنیا پر ظاہر کریں۔اور ہمارا ایسا کرنا کسی پر احسان نہیں بلکہ اپنے فرض کی ادائیگی ہے اور دنیا میں کوئی خوشی ادائیگی فرض کی خوشی سے زیادہ نہیں ہو سکتی"۔بعض مالی تحریکات کے سلسلہ میں جماعت کی تعریف کرتے ہوئے حضور نے فرمایا : اللہ تعالٰی کا فضل ہے کہ اس نے مجھے ایک ایسی جماعت کا انتظام سپرد کیا ہے۔جس کی نسبت اگر میں یہ کہوں کہ وہ میری آواز پر کان نہیں رکھتی تو یہ سخت ناشکری ہوگی میری بات کی طرف توجہ کرنا تو ایک چھوٹی سی بات ہے میں تو دیکھتا ہوں کہ بہت ہیں جو میرے اشارے پر اپنی جان اور اپنا مال اور اپنی ہر ایک عزیز چیز کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں “۔(۱۸) زندہ مذہب ۳۰ ستمبر ۱۹۱۷ء کو بمقام شملہ میانک ہال میں حضور نے یہ تقریر فرمائی تھی جسے بعد ازاں کتابی شکل میں شائع کیا گیا۔اس کتاب میں حضور نے زندہ مذہب کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا : " کسی مذہب کے متعلق زندہ یا مردہ کا فیصلہ کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ دیکھیں مذہب کی غرض کیا ہے۔اسے کیوں اختیار کیا جاتا ہے پس اگر جس غرض کے لئے کسی مذہب کو اختیار کیا جاتا ہے وہ پوری ہو جائے تو وہ مذہب زندہ ہے