انوارالعلوم (جلد 3) — Page 229
رالعلوم جلد ۳ ۲۲۹ انوار خلافت لے اس مضمون میں نظر مانی کے وقت میں نے اور مضامین بھی زائد کر دیئے ہیں جو لیکچر کے وقت بوجہ کمی وقت بیان نہیں کر سکا۔نے حضرت خلیفۃ المسیح یہاں تک تقریر فرما چکے تھے کہ ایک شخص نے بذریعہ رقعہ ایک سوال دریافت کیا جو یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہو سکتا تو وہ عمر ہوتا۔پس جب حضرت عمرفی نہیں ہوئے تو پھر آپ کے بعد کوئی اور کس طرح نبی ہو سکتا ہے۔اس کا مختصر سا جواب حضور نے اپنی مسلسل تقریر کو بند کر کے جو دیا وہ درج ذیل ہے:۔حضور نے فرمایا کہ چونکہ رقعہ لکھنے والے غیر احمدی صاحب ہیں۔اس لئے جواب دیتا ہوں اگر کوئی احمدی پوچھتا تو اسے روک دیتا کیونکہ دوران گفتگو میں بولنا جائز نہیں۔جس صاحب نے یہ سوال کیا ہے وہ سن لیں۔کہ قرآن شریف میں خدا تعالٰی نے نبی کے آنے کی یہ شرط فرمائی ہے کہ جب دنیا میں ظلمت اور تاریکی ہو جاتی ہے اور دنیا خد اتعالٰی کو چھوڑ کر بھر عصیان میں گر پڑتی ہے۔اس وقت نبی آتا ہے اور اس کو ضلالت کے گڑھے سے آکر نکالتا ہے۔لیکن حضرت عمر نے تو اس زمانہ میں ہوئے ہیں جبکہ چاروں طرف نور ہی نور پھیلا ہوا تھا۔اور خدا تعالی کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے لئے بے شمار ذرائع موجود تھے۔اس لئے وہ کس طرح نبی ہوتے پھر آنحضرت ا نے ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ آنے والا مسیح نبی ہو گا اس لئے یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ہاں یہ سوال ہو سکتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب مسیح موعود ہیں یا نہیں۔اگر آپ مسیح موعود ہیں۔تو نبی بھی ہیں۔اور جب آپ مسیح موعود ہیں۔تو پھر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ آپ نبی کس طرح ہوئے پس نبوت کے ہونے نہ ہونے پر سوال نہیں ہو سکتا۔ہاں یہ سوال ہو سکتا ہے کہ اس حدیث کا کیا مطلب ہے سو ایک مطلب اس حدیث کا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر رسول کریم ﷺ کے بعد فوراہی آپ کی جماعت کو سنبھالنے کے لئے کسی نبی کی ضرورت کو ہوتی۔جس طرح حضرت موسیٰ کے بعد تھی تو حضرت عمربی آپ کے بعد نبوت کے مقام پر ترقی پاتے۔لیکن چونکہ آپ ایک ایسی جماعت تیار کر کے رخصت ہونے والے تھے۔جو اپنی نیکی اور تقویٰ میں حضرت موسی کسی جماعت سے کئی درجہ زیادہ تھی اور مکمل تھی اس لئے آپ کے جوانی بعد فورا کسی نبی کی بعثت کی ضرورت نہ تھی۔کے بعد میں معلوم ہوا کہ دو دوست فوت ہو گئے ہیں۔