انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 214

۲۱۴ اور سب انہی میں آجائیں گی کیونکہ باقی سب مذاہب انہی مذاہب کی شاخیں ہیں۔میں نے ان چار مذاہب کے نام اسلئے لئے ہیں کہ یہ بڑے بڑے مذہب ہیں اور ان کے ماننے والی بڑی بڑی جماعتیں ہیں درنہ ہر ایک مذہب میں کسی نہ کسی نبی کے آنے کی پیشگوئی موجود ہے۔غرض خدا تعالیٰ نے تمام دنیا پر ایک ہی مذہب قائم کرنے کی یہ تدبیر کی۔لیکن خدا کی یہ سنت نہیں ہے کہ مذاہب کو بالکل مٹا کر اور نیست و نابود کر کے ایک ہی مذہب کو رہنے و اسی سنت کے مطابق اب بھی دیگر مذاہب کچھ کچھ رہیں گے۔لیکن بہت ہی قلیل تعداد میں ان کے پیرو ہوں گے جو گویا نہ ہونے کے ہی برا بر ہوں گے۔اس جگہ میں ایک اعتراض کا جو عام طور پر احمدیوں پر اعتراض اور اس کا جواب کیا جاتا ہے اور جو میری پہلی تقریر پر بھی پڑ سکتا ہے؟ ازالہ کر دینا ضروری سمجھتا ہوں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ مانا کہ تمام مذاہب کے جمع کرنے کے لئے یہ ایک عمدہ تدبیر ہے کہ سب مذاہب کے نبیوں کی دوبارہ آمد کی خبر دی جائے اور پھر ان سب کو ایک شخص کے وجود میں ظاہر کیا جائے لیکن یہ ہو کیونکر سکتا ہے کہ ایک ہی شخص کرشن بھی ہو مسیح بھی ہو محمد بھی ہو اور اسی طرح اور نبیوں کا بھی مظہر ہو۔اس کے جواب میں میں کہتا ہوں کہ چار ناموں والے ایک شخص کا ہونا کچھ بھی مشکل نہیں۔میں نے جلسہ کے موقعہ پر اپنی ایک تقریر میں بتایا ہے کہ آنحضرت ا فرماتے ہیں کہ میرے کئی نام ہیں۔میرا نام محمد ہے کیونکہ میں سب انسانوں سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کے حضور تعریف کیا گیا ہوں۔میں احمد ہوں کہ مجھ سے بڑھ کر خدا کی تعریف کرنے والا کوئی نہیں۔میں حاشر ہوں کہ دنیا کو اس کی روحانی موت کے بعد پھر زندہ کروں گا۔میں ماحی ہوں کہ دنیا کے کفر اور ضلالت کو مٹانے والا ہوں۔میں عاقب ہوں کہ میرے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا نبی نہیں ہو سکتا۔پس اگر آنحضرت ا کے پانچ نام ہو سکتے ہیں۔تو حضرت مسیح موعود کے چار نام کیوں نہیں ہو سکتے۔اس میں تعجب کی کونسی بات ہے۔اور خدا تعالی کے تو ننانوے نام کے ہاتے ہیں۔ہمارے نزدیک تو خدا تعالیٰ کے ہزار ہا نام ہیں لیکن اگر ننانوے ہی تسلیم کئے جائیں۔تب بھی بات صاف ہے اگر ایک ہستی کے ننانوے نام ہو سکتے ہیں تو چار نام ایک جگہ کیوں جمع نہیں ہو سکتے۔اور یہ تو صفاتی ناموں کا حال ہے۔ہم تو دیکھتے ہیں کہ اسم ذات بھی بعض دفعہ ایک سے زیادہ ہوتے ہیں مثلاً ہمارا ہی چھوٹا بھائی تھا جس کا مبارک احمد بھی نام تھا۔