انوارالعلوم (جلد 3) — Page 153
دم جلد ۳۰ ۱۵۳ درخواست دی تو ڈپٹی کمشنر صاحب نے یہ حکم دیا کہ اگر اب احمدیوں کو کوئی تکلیف ہوئی تو مسلمانوں کے جتنے لیڈر ہیں ان سب کو نئے قانون کے ماتحت ملک بدر کر دیا جائے گا اس طرح کا حکم کسی کے مونہہ سے نہیں نکل سکتا مگر اسی کے مونہہ سے جس کے دل میں بنی نوع انسان کی ہمدردی ہو۔تو یہ تازہ سلوک اس گورنمنٹ نے تمہارے مالا باری بھائیوں کے ساتھ کیا ہے۔اور جو کسی کے بھائی پر احسان کرتا ہے وہ اس پر کرتا ہے۔پس جب مالا باری احمدی ہمارے بھائی ہیں تو ہمیں گورنمنٹ کا کس قدر احسان مند ہونا چاہئے۔پھر ماریشس میں ہمارے ایک مبلغ گئے ہیں جو جہاں لیکچر دینا چاہتے غیر احمدی بند کروا دیتے۔آخر انہوں نے گورنمنٹ سے سرکاری ہال کے لئے درخواست کی تو وہاں کے گورنر نے حکم دیا کہ آپ ہفتہ میں تین دن اس ہال میں لیکچر دے سکتے ہیں۔گویا گورنمنٹ نے ہفتہ کے نصف دن ہمارے مبلغ کو دے دیئے اور نصف اپنے لئے رکھے۔پس جو گورنمنٹ ایسی مہربان ہو اس کی جس قدر بھی فرمانبرداری کی جائے تھوڑی ہے۔ایک دفعہ حضرت عمر ا نے فرمایا کہ اگر مجھ پر خلافت کا بوجھ نہ ہوتا تو میں موذن بنتا۔اسی طرح میں کہتا ہوں کہ اگر میں خلیفہ نہ ہوتا۔تو والنٹیر ہو کر جنگ میں چلا جاتا۔اس وقت گورنمنٹ کو آدمیوں کی بہت ضرورت ہے۔اس لئے جس کسی سے کوئی خدمت ادا ہو سکے ضرور کرے۔اس جنگ سے تو ہمیں بہت فائدہ پہنچا ہے۔ہمارے بہت سے احمدی احباب کی میدان جنگ میں گئے ہوئے ہیں لیکن خدا کا فضل ہے کہ ابھی تک ایک سے بھی فوت نہیں ہوا۔پھر وہ احباب جو فرانس کے میدان جنگ میں ہیں وہ تو تبلیغ کا کام بھی خوب کر رہے ہیں۔انہوں نے ٹیچنگز آف اسلام کا فرانسیسی میں ترجمہ کروا کر شائع کر دیا ہے۔اس کے علاوہ اور بھی کئی ٹریکٹ فرانسیسی میں لکھا کر شائع کرائے ہیں۔پس اگر کوئی میدان جنگ میں جائے گا تو گویا گورنمنٹ کے خرچ پر ہمارا مفت کا مبلغ ہو گا۔اس لئے اگر کوئی جانا چاہے تو ضرور جائے بہت عمدہ کام ہے۔مجھ سے اب تک جتنے احمدیوں نے لڑائی پر جانے کے لئے پوچھا ہے میں نے بڑی نوشی سے انہیں اجازت دی ہے۔اور کہا ہے کہ اگر تم اس نیک نیتی سے جاؤ گے کہ ہم گورنمنٹ کی خدمت کرنے کے لئے جا رہے ہیں اور ساتھ ہی دین کی تبلیغ بھی کریں گے تو خدا تعالیٰ تمہارا حافظ ہو گا اور تمہیں ہر ایک تکلیف سے محفوظ رکھے گا۔پس یہ گورنمنٹ کی مدد کا ایک موقعہ ہے جس کو خدا تعالٰی توفیق دے۔شامل ہو جائے۔