انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 141

ز العلوم جلد ۳۰ ۱۴۱ انوار خداشت سے باتیں کرتے۔ایک کہتا اگر یوں ہو تو یوں ہو جائے۔دوسرا کہتا اگر یوں ہو تو یوں ہو سکتا ہے۔میں نے ان کی کسی بات پر کہا کہ قرآن شریف میں تو یوں لکھا ہے۔ایک نے مجھے ہنس کر کہا قرآن کو کون مانتا ہے میں نے کہا ادھر تو تم اسلام کی حمایت میں بڑی بڑی باتیں کر رہے تھے اور ادھر کہتے ہو کہ قرآن کو کون مانتا ہے یہ کیا؟ اس نے کہا میں رسول اللہ کی تو عزت کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے ایک متحد قوم تیار کر دی اور دنیا کو بہت فائدہ پہنچایا لیکن میں قرآن کی کوئی عزت نہیں کرتا۔میں نے کہا رسول کریم نے قرآن شریف خود تو نہیں لکھا یہ تو خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔کہنے لگا یہ انہوں نے لوگوں کو منوانے کے لئے کہہ دیا ہے ورنہ خدا کیا اور اس کی کتاب کیا۔میں نے ان باتوں سے سمجھ لیا کہ اسے اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔میں بہت دیر تک اسے سمجھاتا رہا لیکن خدا ہی جانتا ہے کہ اس پر کوئی اثر ہوا یا نہیں۔مگر اتنا میں نے دیکھا کہ جس دن ہم نے جدا ہونا تھا اس سے ایک دن پہلے ایک ہندو دہریہ نے جو اس کے ساتھ ہی کا تھا خدا تعالٰی کی نسبت کوئی سخت لفظ کہا تو وہ اس کے پاس آکر کہنے لگا خدا کی نسبت ایسا نہ کہو۔یہ الفاظ سن کر میرا دل دھڑکتا ہے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ متاثر ضرور ہوا۔غرض لوگ ناواقفی کی وجہ سے اسلام کو چھوڑ رہے ہیں۔اگر ان کو واقف کر دیا جائے تو وہ بچے مسلمان بن سکتے ہیں۔وہ شخص جس کو ہیرے کی قدر ہی معلوم نہ ہو وہ اسے پھینکتا ہے لیکن جسے معلوم ہو کہ : یہ نہایت قیمتی چیز ہے وہ حتی الوسع کبھی اس کو ضائع نہیں ہونے دیتا۔میں نے علم کے حاصل کرنے کی یہ تجاویز کی ہیں سو ان کو کام میں لانے کی تم لوگ کوشش کرو تا اسلام کی قدر اور قیمت جاننے والے ہنو۔اور اس بیش بہا ہیرے کو رائیگاں نہ جانے دو۔اگر تم اس کام کے لئے کوشش کرو گے تو خدا تعالیٰ تمہاری ہمتوں میں برکت دے گا۔اور جو کوئی اس کام میں اپنا کچھ وقت لگائے گا خدا تعالٰی پہلے سے کم وقت میں اس کا کام کر دیا کرے گا۔میرا دل چاہتا ہے کہ ہماری جماعت کا ہر ایک فرد اس قابل ہو کہ ہر ایک سوال کا جھٹ جواب دے سکے اور ہر ایک بات کے متعلق فور اولا ئل بنا دے۔اسی مضمون کا ایک اور حصہ ہے اور وہ یہ کہ ہماری جماعت عورتوں کو علم دین سکھاؤ کے وہ لوگ جو علم کا سیکھنا تو ضروری سمجھتے ہیں۔لیکن اس کو فرض کفایہ جانتے ہیں یعنی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایک گھر میں سے خاوند سیکھ لے تو سب کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔مثلاً ابا جان احمدی ہو گئے تو بیٹے بھی بخشے گئے خواہ وہ غیر احمدی ہی کیوں نہ