انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xvi of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page xvi

انوار العلوم جلد۔9 (1) اسلام اور دیگر مذاہب یہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا وہ معركة الآراء مضمون ہے جو جماعت احمدیہ دہلی کے سالانہ جلسہ کے لئے حضور انور نے قلم برداشتہ لکھ کر ۱۹۱۶ء میں بھجوایا تھا۔اس مضمون میں آپ نے اس بات کو ثابت کیا کہ اب صرف اور صرف اسلام ہی تمام بنی نوع انسان کے لئے نجات کا ذریعہ ہے۔جبکہ گذشتہ تمام مذاہب مخصوص اقوام اور مخصوص وقت کے لئے تھے۔اور سوائے آنحضرت کے کسی اور مذہب کے بانی نے عالمی رسول ہونے کا دعوی نہیں کیا۔اور یہی وجہ ہے کہ گذشتہ تمام مذہبی کتب باوجودیکہ الہامی تھیں اب محترف و مبدل ہو چکی ہیں اور چونکہ اب فقط اسلام ہی قیامت تک کے لئے رہنما اور بادی ہے اس لئے اللہ تعالٰی کے وعدہ کے مطابق قرآن کریم قیامت تک اسی طرح محفوظ و مامون رہے گا جس طرح ابتداء میں نازل ہوا تھا۔اس تمہید کے بعد آپ نے اسلام کی خوبیوں کو دوسرے مذاہب کے مقابل پر ثابت کرتے ہوئے فرمایا کہ فقط اسلام کی تعلیم ہی فطرت انسانی کے مطابق ہے۔اور ہر مذہب کی بنیادی طور پر دو ہی اغراض ہوتی ہیں۔پہلی تعلق باللہ یعنی حقوق اللہ کی بجا آوری اور دوسری حقوق العباد کی ا نگهداشت تعلق باللہ خدا تعالیٰ کی محبت کے بغیر ناممکن ہے اور محبت فقط تین وجوہ سے ہوتی ہے۔خوف سے یا حسن سے یا احسان سے۔ہر وہ محبت جو ان میں سے کسی ایک وجہ سے ہو یا دو وجہ سے وہ یقینا وقتی اور عارضی ہوتی ہے۔اور اسلام کے سوا دیگر تمام مذاہب نے یا تو خدا تعالیٰ کے خوف سے ڈرایا ہے یا اس کے حسن سے فریفتہ کرنے کی کوشش کی ہے یا اس کے احسانوں کا بوجھ انسانوں پر ڈالا ہے۔اور ان میں بہت افراط و تفریط سے کام لیا ہے۔جبکہ صرف اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے خدا تعالیٰ سے محبت کی ان تینوں وجوہ پر توجہ دی ہے اور ان میں ایک میانہ روی اور ربط قائم کیا جبکہ دوسرے تمام مذاہب اس خوبی سے عاری ہیں۔اس بات کو ثابت کر کے آپ نے فرمایا : اس وقت اسلام ہی ہے جو اپنی بے عیب تعلیم کی وجہ سے تمام دنیا کی ہدایت کر سکتا ہے اور جس کی تعلیم کسی خاص بات پر زور نہیں دیتی بلکہ تمام ضروری