انوارالعلوم (جلد 3) — Page xv
العلوم جلد کہ فتوحات کے زمانہ میں ہی تمام فسادات کا بیج بویا جاتا ہے۔جو اپنی فتح کے وقت اپنی شکست کی نسبت نہیں سوچتا اور اقبال کے وقت ادبار کا خیال نہیں کرتا اور ترقی کے وقت تنزل کے اسباب کو نہیں مٹاتا اس کی ہلاکت یقینی اور اس کی تباہی لازمی ہے"۔اسلامی تاریخ کے بعض فتنوں کا ذکر کرنے کے بعد ان فتنوں سے بچنے کے ذرائع بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا : پس یاد رکھو کہ یہ وہ فتنہ تھا جس نے مسلمانوں کے ۷۲ نہیں ۷۲ ہزار فرقے بنا دیئے۔مگر اس کی وجہ وہی ہے جو میں نے کئی دفعہ بتائی ہے کہ وہ لوگ مدینہ میں نہ آتے تھے۔ان باتوں کو خوب ذہن نشین کرلو کیونکہ تمہاری جماعت میں بھی ایسے فتنے ہوں گے جن کا علاج یہی ہے کہ تم بار بار قادیان آؤ اور صحیح صحیح حالات سے واقفیت پیدا کرو۔میں نہیں جانتا کہ یہ فتنے کس زمانہ میں ہوں گے لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ ہوں گے ضرور لیکن اگر تم قادیان آؤ گے اور بار بار آؤ گے تو ان فتنوں کے دور کرنے میں کامیاب ہو جاؤ گے"۔تیسرا خطاب : یہ خطاب آپ نے ۳۰ - دسمبر ۱۹۱۵ء کو مسجد اقصیٰ میں ارشاد فرمایا اور اس میں آپ نے حضرت مسیح موعود کے کرشن ، بدھ ، مسیح اور مہدی ہونے کے ثبوت فراہم کئے اور اس بات کی وضاحت کی کہ چونکہ بنی نوع انسان کو خدا تعالیٰ نے امت واحدہ بنانا تھا اس لئے ہر مذہب کے پیروکاروں کو آخری زمانہ میں انہی کے کسی مقدس وجود کے آنے کی خوشخبری سنادی اور اس امت واحدہ کی تشکیل کے لئے آنحضرت مبعوث ہوئے۔جو تمام گذشتہ انبیاء کی صفات اپنے اندر رکھتے تھے اور آپ کی اتباع میں آپ ہی کے مشن کی تکمیل کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو آپ کا بروز اور ظل بنا کر مبعوث کیا اور عقلی طور پر گذشتہ انبیاء کے نام سے سرفراز کیا تا آپ ہر ایک امت کو ان کی حقیقی تعلیم سے آگاہ کر سکیں اور انہیں امت واحدہ میں شامل کر سکیں۔حضور نے آخر میں خدا تعالی کی طرف سے حضرت مسیح موعود کے ایک سے زیادہ نام رکھنے کی دس حکمتیں بیان فرما ئیں۔