انوارالعلوم (جلد 3) — Page 118
لوم جلد ۳۰ HA نتیجہ ہو گا کہ قرآن میں مذکور انبیاء میں سے بھی بعض انبیاء کی نبوت کا انکار کرنا پڑے گا۔کون نہیں جانتا کہ ہمارے رسول کریم ان کے جد امجد حضرت اسماعیل تھے۔اور آپ کا یہ نام مرکب ہے۔عربی والوں نے اس کے دو حصے کئے ہیں۔ایک سمع۔اور دوسرا ایل اور عبرانی والے بھی اس نام کے دو ہی حصے کرتے ہیں۔ایک يسمع اور دوسرا ایل۔تو معلوم ہوا کہ عبرانی کے لحاظ سے یسمع اور ایل۔اور عربی کے لحاظ سے سمع اور ایل دو لفظوں سے یہ۔نام مرکب ہے۔سمع کے معنی ہیں سن لیا۔اور ایل کے معنی ہیں خدا۔ایل در حقیقت عربی زبان کے لفظ آئل سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں قدرت رکھنے والا کوٹنے والا۔تو چونکہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر رحم اور کرم کی وجہ سے لوقا یعنی متوجہ ہوتا ہے اس لئے اس کا یہ نام ہو گیا۔جس طرح عربی میں خدا تعالیٰ کا ایک نام تو آب ہے۔اور اسی وجہ سے ہے کہ خدا اپنے بندوں کی طرف فضل کے ساتھ لوٹتا ہے۔تو سمع ایل کے معنی ہیں خدا نے سنا۔اس سے بگڑ کر اسماعیل بن گیا۔اور بائبل میں اس نام کے رکھے جانے کی یہی وجہ لکھی ہے۔چنانچہ وہاں لکھا ہے کہ جب حضرت ابراہیم کی چھوٹی بیوی ہاجرہ ان کی بڑی بیوی سارہ کے تنگ کرنے سے گھر سے نکلی تو خداوند کے فرشتے نے اسے میدان میں پانی کے ایک چشمے کے پاس پایا۔یعنی اس چشمے کے پاس جو صور کی راہ پر ہے۔اور اس نے کہا کہ اے سری کی لونڈی ہاجرہ اتو کہاں سے آئی اور کدھر جاتی ہے۔وہ بولی کہ میں اپنی بی بی سری کے سامنے سے بھاگی ہوں اور خداوند کے فرشتے نے اسے کہا۔کہ تو اپنی بی بی کے پاس پھر جا اور اس کے تابع رہ۔پھر خداوند کے فرشتے نے اسے کہا کہ میں تیری اولاد کو بہت بڑھاؤں گا کہ وہ کثرت سے گنی نہ جائے۔اور خداوند کے فرشتے نے اسے کہا کہ تو حاملہ ہے۔اور ایک بیٹا بنے گی۔اس کا نام اسماعیل رکھنا کہ خداوند نے تیرا دکھ سن لیا ( پیدائش باب ۱۶ آیت ۷ تا لا اب یہ دلیل پیش کرنے والا بتائے کہ خدا اور سن لی دو الگ الگ لفظ ہیں یا نہیں۔اور یہ بھی بتائے کہ یہ نام مرکب ہوا یا مفرد۔پس اگر حضرت اسمعیل باوجود مرکب نام رکھنے کے نبی ہو سکتے ہیں۔تو کیا وجہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب مرکب نام کی وجہ سے نبی نہیں بن سکتے۔لیکن وہ نادان جو نہ عربی جانتا ہے عبرانی۔وہ کہتا ہے کہ کسی نبی کا مرکب نام نہیں ہے۔اور جب نبی کا مرکب نام نہیں تو مرزا صاحب جن کا نام مرکب ہے نبی نہیں ہو سکتے۔پھر ابھی مفتی محمد صادق صاحب نے ایک رقعہ لکھ کر دیا ہے کہ حضرت ابراہیم کا نام ابی اور ه مطبوع 1904ء