انوارالعلوم (جلد 3) — Page 117
انوار العلوم جلد - 114 انوار خلافت کسی نے ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں اس نے لکھا ہے کہ یہ ایک ایسی دلیل ہے جس سے مرزا صاحب کی نبوت بالکل باطل ہو جاتی ہے۔وہ لکھتا ہے : " خدا تعالی کی طرف سے جس قدر انبیاء دنیا میں آئے ہیں اور انہوں نے مبعوث ہو کر لوگوں کو توحید کا قائل کیا۔منجملہ ان کے ایک بھی ایسا نبی و رسول نہ آیا۔جس کا اسم مبارک دو لفظوں سے مل کر بنا ہو۔بلکہ ہر نبی در سول منصوص من اللہ کا اسم مبارک نقطہ واحد سے مشتق ہو تا چلا آیا ہے" (روزنامه چیه اخبار مؤرخه ۲۸۔نومبر ۱۹۱۵ء) یہ اور اسی قسم کی اور دلیلیں بھی دی جاتی ہیں جن کو پڑھ کر تعجب ہی آتا ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کل کوئی شخص ایک ایسے نبی کو جسے وہ مانتا ہے خواب میں دیکھ لے کہ اتنی لمبی اس کی داڑھی ہے اتنا قد ہے اس طرح کی شکل ہے تو لکھ دے کہ نبی وہی ہو سکتا ہے۔جس کی اس قسم کی داڑھی ہو اتنا بڑا قد ہو اگر ایسا نہ ہو تو نبی نہیں ہو سکتا۔پچھلے نبیوں کی نبوت کے متعلق ان کے نام کا مفرد ہوتا دلیل ہی کس طرح ہو سکتی ہے ؟ اور کس کو معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ کے ان تمام نبیوں کے نام جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ا تک ہوئے ہیں مفرد تھے ؟ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ مجھے تمام انبیاء کے نام معلوم ہیں تو وہ جھوٹا ہے اور جھوٹا دعوئی کرتا ہے۔کیونکہ جب خدا تعالی آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے کہ وَلَقَدْ ارُ سَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَ مِنْهُمْ مِّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ (المؤمن : (۷۹) اور ضرور ہم نے تجھ سے پہلے رسولوں کو بھیجا ہے ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جن کا ذکر ہم نے تجھے پر کر دیا ہے۔اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کا تجھ سے ذکر نہیں کیا یعنی خدا تعالیٰ نے آنحضرت کو بھی بعض انبیاء کے نام نہیں بتائے تو اب اور کون ہے جس کو تمام انبیاء کے نام معلوم ہوں۔اور اگر کسی کو دعوئی ہے تو کم سے کم ان ایک لاکھ چو بیس ہزار نبیوں کے نام ہی ہم کو بتائے جن کا ذکر حدیث میں آتا ہے۔(مسند احمد بن مقبل جلد ۵ صفحه ۲۶۶) غرض اول تو یہ دعوئی ہی غلط ہے کہ تمام انبیاء کے نام مفرد تھے۔اور اگر بفرض محال درست بھی ہو تو یہ کوئی ثبوت نہیں کیونکہ اس بات کا ثبوت نہ قرآن کریم سے ملتا ہے نہ احادیث سے نہ پہلے صحفِ انبیاء سے اور ایک عظمند انسان تو نبی کی یہ علامت سن کر حیران ہو جائے گا کہ نبی وہی ہوتا ہے جس کا نام مفرد ہو۔گویا نبوت کا سب دارد مدار نام پر ہے نہ کہ کام پر۔لیکن اگر اس دعوئی کو قبول کر لیا جائے کہ نبی وہی ہوتا ہے جس کا نام مفرد ہو تو اس کا یہ