انوارالعلوم (جلد 3) — Page 102
انوار العلوم جلد ۳۰ ١٠٢ انوار خلافت کے کہ کل فیضان جو حضرت مسیح موعود کو پہنچا ہے آپ ہی سے پہنچا ہے اس لئے جو خبر آپ کی نسبت دی گئی ہے اس کے مصداق رسول کریم ا یہ بھی ضرور ہیں کیونکہ جو خوبیاں کل میں ہوں اصل میں ضرور ہونی چاہئیں۔پس عکس کی خبر دینے والا ساتھ ہی اصل کی خبر بھی دیتا ہے پس اس آیت میں ضمنی طور پر رسول کریم اے کی بھی خبر دی گئی ہے اور اس بیان سے یہ واجب نہیں آتا کہ اس پیشگوئی کے مصداق حضرت مسیح موعود نہ ہوں۔اس کے اصل مصداق حضرت مسیح موعود ہیں اور اس لحاظ سے کہ آپ کے سب کمالات آنحضرت ا سے حاصل کئے ہوئے ہیں۔رسول کریم ﷺ کی بھی پیشگوئی اس میں سے نکل آتی ہے۔" - حضرت مسیح موعود کے احمد ہونے کا دسواں ثبوت یہ ہے کہ انجیل میں لفظ دسواں ثبوت احمد کہیں نہیں آتا۔پس کو ایک صورت تو یہ ہے کہ انجیل سے یہ لفظ تحریف کے زمانہ میں مٹ گیا لیکن ایک دوسری صورت اور بھی ہے اور وہ یہ کہ احمد کا لفظ عربی زبان میں مسیح کی کسی پیشگوئی کا ترجمہ ہے۔اور یہ بات ہم کو قرآن کریم سے صاف طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ مختلف زبانوں میں جو خبریں دی گئی ہیں ان کو عربی زبان کے لباس میں ہی قرآن کریم بیان کرتا ہے۔پس اس اصل کو دل میں رکھ کر جب ہم انجیل کو دیکھتے ہیں تو اس میں دو رسولوں کی خبر پاتے ہیں۔ایک وہ نبی" کی خبر اور ایک مسیح کی دوبارہ آمد کی خبر۔جب عربی زبان پر غور کریں تو وہ نبی" کا ترجمہ عربی زبان میں احمد نہیں ہوتا نہ کسی محاورہ کا اس میں تعلق ہے لیکن دوبارہ آنے کے متعلق ہمیں ایک محاورہ عربی زبان کا معلوم ہوتا ہے اور وہ العود احمد کا محاورہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ دوبارہ لوٹنا احمد ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان کسی کام کے کرنے کی طرف دوبارہ توجہ کرے تو اسے پہلے کی نسبت اچھا کرتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالی نے اس مضمون کی طرف یہ اشارہ فرمایا ہے کہ کا نَنسَ مِنْ آيَةٍ أَوْ نَفْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلَهَا ، (البقره : ۱۰۷)۔یعنی جب ہم کوئی تعلیم منسوخ کر دیں یا بھلوا دیں تو اس سے بہتر لاتے ہیں یا اس جیسی تو ضرور لاتے ہیں۔اس آیت میں بتایا ہے کہ جب ایک تعلیم کو مٹا کر ہم دوسری لادیں تو اس میں کوئی حکمت ہی ہوتی ہے اور اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس سے بہتر ہم کوئی اور تعلیم لاویں۔یا کم سے کم ویسی ہی ہو۔پس اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دوسری دفعہ کام کرنے میں زیادہ خوبی والی شئے مد نظر ہوتی ہے۔اور اسی بات کو مد نظر رکھ کر عربی زبان کا یہ محاورہ ہو گیا ہے کہ الْعَودُ أَحْمَدُ پس