انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 71

(الانفال: ۶۴) اگر تو دنیا کا سب مال و متاع خرچ کر دیا۔تو بھی ان لوگوں کو متحد نہیں کر سکتا تھا۔لیکن اللہ تعالی ٰنے ان کو متحد کردیا۔اور اس پر کیا مشکل تھا وہ تو غالب اور حکمت والا خداہے۔پس میری کچھ ہستی نہ تھی کہ میں اس طوفان بے تمیزی کو روک سکتا۔اس قدر تفرقہ کو دورکرنا انسان کا کام نہیں۔یہ تو عزیز و حکیم خداہی کر سکتا ہے اور اس نے ایسا کر دیا۔میں جانتا ہوں کہ ابھی بعض جگہ تفرقہ باقی ہے۔اور ایک قلیل حصہ جماعت کا اتحاد کی رسی میں ابھی تک پرویا نہیں گیا۔اور کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ ابھی تک تو جماعت میں اتحاد نہیں ہؤا پس ابھی سے خوش ہونااور خدا تعالی کا شکر کرنا بے محل اور بے موقعہ ہے۔مگر اس نادان کو کیا معلوم کہ بقیہ گروہ کو بھی ساتھ ملانے کا یہی طریق ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کریں کیونکہ خودوہی ذات پاک یوں فرماتی ہے۔لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ (ابراهیم :۸) قسم ہے مجھے اپنی ذات کی کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں اور بھی دوں گا۔اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بھی بہت سخت ہے نعود باللہ من عذابه پس اے میرے دوستو! اور پیارو! آؤ ہم سب مل کر اللہ تعالی کے اس احسان کا شکریہ اداکریں۔کہ جدائی کے بعد اس نے ہمیں ملا دیا۔پر اگندگی کے بعد جمع کر دیا۔تاکہ اس سے اور بھی زیادہ مانگنے کے مستحق ہوں۔اور عرض کر سکیں کہ الہٰی اب اپنے وعدہ کے مطابق بقیہ بھیڑوں کو بھی اس گلہ میں لا کر ملادیجئے۔اللهم امين - خدا تعالیٰ کے وعدے سچے ہیں اور وہ جھوٹے وعدے نہیں کرتا۔اور جو شخص اس کے وعدوں پر ایمان نہیں لاتا اور اس کا دل یقین سے نہیں بھرتا وواپنے ایمان کی خبرلے کہ اس کا دل شیطان کے پنجہ میں مبتلاء ہے۔جب خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ شکر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالی ٰاور بھی دیتا ہے۔تو آؤ ہم اپنے مولیٰ کا شکر کریں۔اور اس کی حمد وثناء کے گیت گائیں۔اور اس کے حضور میں سجدہ کریں تااس کا فضل جوش مارے اور رہے سہے غم بھی جاتے رہیں۔میں اپنے مولی ٰکے احسانات کا شکریہ کس منہ سے ادا کروں۔اور اس کے احسانات کو کس زبان سے گنوں کہ میرا منہ اور میری زبان اس کام کو پورا نہیں کر سکتے میرے جسم کاذرہ ذرہ بھی اگر گویا ہو تو اس کے بحر عطایا کے ایک قطرہ کا شکریہ ادا نہ ہو سکے۔ایسے خطرناک متلاطم سمندر میں سے جماعت کا جہاز گزرے۔اور میرے جیسے نا تجربہ کار اور ناواقف اور کمزور ملاح کے ہاتھوں میں اس کی پتوار ہو اور پھر بھی کشتی سلامت گزر جائے۔یہ کس