انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 70

۷۰ گھروں پر تاریک بادل منڈلانے لگے۔اور ہم نے ایک دفعہ پھر اپنی آنکھوں سے یہ نظارہ دیکھا۔کہ کس طرح بھائی بھائی سے جدا ہو جاتا ہے۔اور بیوی خاوند سے علیحدگی اختیار کر لیتی ہے ہمارے لئے اس معلم کی جدائی جو رات دن ہماری تعلیم و تربیت میں کوشاں رہتا تھا کچھ کم غم و اندوہ کا باعث نہ تھی کہ جماعت کے تفرقہ کی مہیب شکل نے اور بھی دل کو بے چین کر دیا۔مسیح موعود علیہ الصلوةوالسلام کی رات دن کی کوششوں اور برسوں کی آہ و زاری سے تیار کی ہوئی جماعت کا ایک ایک فرد پر اگندگی کی حالت میں پھرتا ہوا دیکھنا ایسا نظارہ نہیں جس کے دوبارہ دیکھنے کی آنکھیں بھی آرزو کریں یا دل خواہش کریں جہازوں کی تباہی کا نظارہ نہایت عبرتناک ہوتا ہے۔لیکن اس جہاز کی تباہی دنیا کی تباہی تھی۔کیونکہ ہر ایک جہاز اپنے اندر کے مسافروں کو ساتھ لے کرڈوبتا ہے۔مگر اس جہاز کا نقصان صرف اس میں سوار مسافروں کا نقصان ہی نہ تھا۔بلکہ کل دنیا کی تباہی تھی ہر ایک ذی روح کی ہلاکت تھی کیونکہ احمدی جماعت ہی ایک ایسی جماعت ہے۔جسے خدا تعالی ٰنے اس زمانہ میں اپنے کام کے لئے چن لیا ہے اور صراط مستقیم پر صرف اسی جماعت کا نام ہے اور خود خد اتعالیٰ نےمسیح موعودؑ کو الہام کے ذریعہ سے اس جماعت کی نسبت یہ خبر دی کہ اللهم ان اھلکت هذه العصابة فلن تعبد في الأرض أبدا اے خدا اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا۔تو پھر اس کے بعد اس زمین پر تیری پرستش کبھی نہ ہوگی(مئی ۱۹۰۲ء تذکرہ صفحہ ۴۳۰ ایڈیشن چہارم)، پس جب کہ کل دنیا کی ہدایت اور شفاء صرف اس جماعت کے ساتھ وابستہ ہے۔تو اس جماعت میں کسی قسم کا خلل گو یا کل دنیا کے امن میں خلل کا پیدا ہونا تھا۔پس اس خطرناک تفرقہ کو دیکھ کر جو آخر مارچ و اوائل اپریل میں اس جماعت میں نمودار تھا۔ہر ایک درد مند دل اندر ہی اندر بیٹھا جاتا تھا۔اور بہت تھے جو موت کو زندگی پر ترجیح دیتے تھے اور ان کے دل بے اختیار اس بات کی آرزو کرتے تھے کہ کاش زندوں کی بجائے ہم وفات یافتہ گروہ میں شامل ہوں۔یہ تفرقہ جس طرح دلوں کو ٹکڑے ٹکڑےکر رہا تھا اسی طرح چشم بصیرت رکھنے والوں کے لئے ایک خوشی کا باعث بھی تھا۔کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ یہ افتراق کی عظیم الشان اتحاد کا پیش خیمہ ہے اور یہ جدائی بہت بڑے ملاپ کی خبر دے رہی ہے اور خدا نے ایسا ہی کیا۔اس کے فضل نے پھرہماری دستگیری کی اور ایک دفعہ پھر اپنے زندہ اور موجود ہونے کا ثبوت ہمیں دے دیا۔دلوں کا درست کرنا کسی انسان کا کام نہیں۔اللہ تعالیٰ تو آنحضرت ﷺ کی نسبت بھی فرماتا ہے کہ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْؕ-اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ