انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 582

۵۸۲ ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم الانبیاء نہیں رہیں گے-وَالسَّلام علٰی من اتبع الھدیٰ الراقم خاکسارالمفتقرالی اﷲ الاحد ا غلام احمد عفی اﷲ عنہ ۲۳؍ مئی ۱۹۰۸ء از شہر لاہور ضمیر نمبر۳ امرحق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہئے ۵ مارچ ۱۹۰۸ء کے پرچہ اخبار بدر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی ڈائری کےذیل میں مذکور ہے کہ ایک احمدی سے ایک نواب ریاست نے سوال کیا کہ کیا حضرت مرزا صاحب رسالت کے مد عی ہیں جس کے جواب میں اس احمد ی دوست نے کہا کہ ان کا ایک شعر ہے۔من نیستم رسول د نیاوردہ ام کتاب ہاں ملہم استم و زخداوند منذرم اس سوال و جواب کاذ کراس احمد ی دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة والسلام کی خدمت میں گیا۔جس پر حضور نے فرمایا کہ:۔اس کی تشریح کر دینا تھا کہ ایسا رسُول ہونے سے انکار کیا گیا ہے جو صاحب کتاب ہو دیکھو جو امور سماوی ہوتے ہیں۔ان کے بیان کرنے میں ڈرنا نہیں چاہئیے اور کسی قسم کا خوف کرنا اہلِ حق کا قاعدہ نہیں۔صحابہ کرام کے طرز عمل پر نظر کرو۔وہ بادشاہوں کے درباروں میں گئے اور جو کچھ ان کا عقیدہ تھا وہ صاف صا ف کہہ دیا۔اور حق کہنے سے ذرا نہیں جھجکے جبھی تو لا یخافون لامۃ لائم کے مصداق ہوئے۔ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسُول ہیں۔اصل میں یہ نزاعِ لفظی ہے۔خدا تعالےٰ کے سا تھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے جو بلحاظ کمیت وکیفیت دوسروں سے بڑھ کر ہو اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے پس ہم نبی ہیں۔ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اﷲ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے۔ایسے دعویٰ کو تو ہم کُفر سمجھتے ہیں۔بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔صرف خد ا کی طرف سے پیشگوئیا ں کرتے تھے جن سے موسوی دین کی شوکت وصداقت کا