انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 581

۵۸۱ انہیں امور کی کثرت کی وجہ سے اس نے میرا نام نبی رکھا ہے- سو مَیں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر مَیں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہو گا- اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو مَیں کیونکر اس سے انکار کر سکتا ہوں- مَیں اس پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دُنیا سے گذر جائوں- مگر مَیں ان معنوں سے نبی نہیں ہوں کہ گویا مَیں اسلام سے اپنے تئیں الگ کرتا ہوں یا اسلام کا کوئی حکم منسوخ کرتا ہوں- میری گردن اس جُوئے کے نیچے ہے جو قرآن شریف نے پیش کیا- اور کسی کو مجال نہیں کہ ایک نقطہ یا ایک شوشہ قرآن شریف کا منسوخ کرسکے- سو مَیں صرف اس وجہ سے نبی کہلاتاہوں کہ عربی اور عبرانی زبان میں نبی کے یہ معنے ہیں کہ خدا سے الہام پا کر بکثرت پیشگوئی کرنے والا اور بغیر کثرت کے یہ معنی تحقیق نہیں ہو سکتے جیسا کہ صرف ایک پیسہ سے کوئی مالدار نہیں کہلا سکتا- سو خدا نے اپنے کلام کے ذریعہ سے بکثرت مجھے علم غیب عطا کیا اور ہزارہا نشان میرے پر ظاہر کئے ہیں اور کر رہا ہے- مَیں خود ستائی سے نہیں مگر خدا کے فضل اور اس کے وعدہ کی بناء پر کہتا ہوں کہ اگر تمام دُنیا ایک طرف ہو اور ایک طرف صرف مَیں کھڑا کیا جائوں اور کوئی ایسا امر پیش کیا جائے جس سے خدا کے بندے آزمائے جاتے ہیں تو مجھے اس مقابلہ میں خدا غلبہ دے گا اور ہر ایک پہلو کے مقابلہ میں خدا میرے ساتھ ہو گا اور ہر ایک میدان میں وہ مجھے فتح دے گا- بس اسی بناء پر خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے کہ اس زمانہ میں کثرت مکالمہ مخاطب اﷲ اور کثرت اطلاع برعلوم غیب صرف مجھے ہی عطا کی گئی ہے اور جس حالت میں عام طور پر لوگوں کو خوابیں بھی آتی ہیں اور بعض کو الہام بھی ہوتا ہے اور کسی قدر ملونی کے ساتھ علم غیب سے بھی اطلاع دی جاتی ہے مگر وہ الہام مقدار میں نہایت قلیل ہوتا ہے اور اخبار غیبیہ بھی اس میں نہایت کم ہوتی ہیں اور باوجود کمی کے مشتبہ اور مکدّر اور خیالات نفسانی سے آلودہ ہوتے ہیں تو اس صورت میں عقل سلیم خود چاہتی ہے کہ جس کی وحی اور علم غیب اس کدورت اور نقصان سے پاک ہو اس کو دوسرے معمولی انسانوں کے ساتھ نہ ملایا جائے بلکہ اس کو کسی خاص نام کے ساتھ پکارا جائے تاکہ اس میں اور ا س کے غیر میں امتیاز ہو- اس لئے محض مجھے امتیازی مرتبہ بخشنے کے لئے خدا نے میرا نام نبی رکھ دیا اور یہ مجھے ایک عزّت کا خطاب دیا گیا ہے تاکہ ان میں اور مجھ میں فرق ظاہر ہو جائے- ان معنوں سے مَیں نبی بھی ہوں اور امّتی بھی تاکہ ہمارے سیّد و آقا کی وہ پیشگوئی پوری ہو کہ آنے والا مسیح مسیحی امّتی بھی ہو گا اور نبی بھی ہو گا- ورنہ حضرت عیسٰی جن کے دوبارہ آنے کے بارے میں ایک جھوٹی امید اور جھوٹی طمع لوگوں کو دامنگیر ہے وہ امّتی کیونکر بن سکتے ہیں- کیا آسمان سے اُتر کر نئے سرے وہ مسلمان ہو ں گے اور کیا اس وقت