انوارالعلوم (جلد 2) — Page 390
۳۹۰ موعود ہو سکتا ہے اور نبوت کا دعویٰ بالکل کوئی علیحدہ چیز ہے جس کا لازمی تعلق مسیح موعودؑ کے دعوی ٰسے کچھ نہیں۔٣- کیا آپ کے نزدیک یہ امر قابل اعتراض نہیں کہ ایک شخص موعود ہو کر جو کچھ کہتار ہا اور تیرہ سال تک اس کا سلسلہ جاری رہا اور وہ امر کوئی اجتہاد نہیں بلکہ اپنا دعوی ٰہے وہ سب غلط ثابت ہوا وہ کہتا تھا کہ نبوت تامہ کاملہ کا دروازہ مسدود ہے مگر وہ مسدود نہ تھا وہ کہتا تھا کہ جزوی نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔مگر وہ کھلا نہ تھا۔یہ ایسے تین اعتراضات ہیں جن کا اس پہلی فصل سے تعلق ہے اس لئے میں ان کا جواب یہیں دیتا ہوں۔پہلا اعتراض کہ اگر حضرت صاحب کادعویٰ تریاق القلوب کے وقت سے بدلا تو کیا ایک مخالف اعتراض نہیں کر سکتا کہ آپ نعوذ باللہ لو تقول والی آیت کے ماتحت پکڑے گئے کیونکہ اس کے بعد آپ صرف ساڑھے پانچ سال زندہ رہے۔اس اعتراض کو مولوی صاحب نے بعض دوسری جگہ بھی بڑے زور سے پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر تم تریاق القلوب کے وقت سے تغیرّمانو تو پھر اس کے دوسرے لفظوں میں یہ معنی ہوں گے کہ مسیح موعود کو نعوذ باللہ کاذب قرار دو کیونکہ لوتقول والی آیت سے مفتری کا جلد ہلاک ہونا ثابت ہے پس تم جو عقیدہ رکھتے ہو اس سے نعوذباللہ حضرت مسیح موعود کی تکذیب لازم آتی ہے اس لئے یہ عقیدہ باطل ہے۔مجھے اس سوال کو پڑھ کر نہایت تعجب ہو تا ہے اور خصوصاً اس بات پر کہ ایسی معمولی بات پراس قدر زور کیوں دیا جا تا ہے کیونکہ جس طرح میں اس سے پہلے مولوی صاحب کی چند غلطیاں لکھ آیا ہوں اسی طرح کی یہ بھی ایک غلطی ہے جو میرے رسالہ پر بلکہ خود قرآن کریم پر غور نہ کرنے کا نتیجہ ہے اور درحقیقت اس کی اصلیت کچھ بھی نہیں چنانچہ ذیل میں میں اس سوال کے چند جوابات دیتا ہوں۔۱ - اول یہ کہ جیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیا ہوں خدائے تعالی ٰکے کلام میں شروع سے آخر تک آپ کا ایک ہی نام رکھا گیا ہے لیکن نبی اور رسول۔پس دعویٰ میں کوئی فرق نہیں۔باقی رہا آپ کا اجتہاد سو جبکہ اللہ تعالی نے آپ کو بعد میں اصل بات سے متنبہ کردیا تو اس اجتہاد کی وجہ سے اصل الہام میں کوئی شک پیدا نہیں ہو تا۔اگر آپ آخر وقت تک اپنے خیال پر قائم رہے تب ہیں ہمارا کوئی حق نہ تھا کہ نئے معنی کرتے۔لیکن جبکہ خود آپ نے بعد میں تشریح کردی ہے تو آپ کے اصل