انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 379

۳۷۹ جواب دینا چاہئے۔معلوم ہوتا ہے کہ میرے رسالہ \" القول الفصل ‘‘کو اس نیت سے نہیں پڑھا گیا کہ اس میں اگر کوئی صداقت ہے تو اسے قبول کیا جائے بلکہ صرف اس نیت سے دیکھا گیا ہے کہ اس کا جواب لکھا جائے۔اور جب انسان ایک چیز کو پہلے ہی غلط سمجھ لیتا ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اسے اس کا پور افہم حاصل نہیں ہوتا۔اور ٹھوکر کھاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ کو بھی ایسی غلطی گئی۔آپ نے پہلے ہی ’’القول الفصل‘‘ کی سب باتیں غلط تصور کر لیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو اس پر پورے غور کا موقع نہ ملا۔مگر افسوس کہ آپ نے اس رسالہ کے بہت سے مطالب کو غلط سمجھا۔اور بہت جلد ان نتائج پر پہنچ گئے۔جن پر پہنچنا درست نہ تھا۔میں آپ کی خدمت میں عرض کر دیتا ہوں کہ نہ ہی میرا عقیدہ ہے۔اور نہ حضرت مسیح موعود نے ایسا لکھا ہے کہ آپ کو پہلے اللہ تعالی نے جزوی نبی قرار دیا۔بعد میں نبی بلکہ حضرت صاحب تو اسی جگہ لکھتے ہیں کہ میں تیئس بر س کی وحی کا کیو نکرانکار کر سکتا ہوں جس سے ثابت ہے کہ وحی الہٰی ہمیشہ آپ کو ظاہر کرتی رہی ہے۔علاوہ ازیں حضرت مسیح موعود نے اس اختلاف کو حضرت مسیح کی حیات و وفات کے اختلاف سے تشبیہ دی ہے۔اور براہین میں جب آپ نے حیات مسیح کا اعلان کیا تھا تو اس کی یہ وجہ نہ تھی کہ اس وقت تک مسیح زندہ تھا بلکہ یہ وجہ تھی کہ گو ایسے الہام ہو چکے تھے جن سے اس کی وفات ثابت ہوتی تھی۔لیکن آپ نے عام عقیدہ کو ترک کرنا پسند نہ کیا جب تک بار بار کے الہامات سے آپ کو اس طرف متوجہ نہ کیا گیا۔اسی طرح اور بالکل اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ کو جن الہامات میں نبی کہا جاتا تھا۔آپ ان کو محد ثیت اور مجددیت کی طرف منتقل کر دیتے تھے۔اور انبیاء کی احتیاط سے کام لے کر آپ نے اس وقت تک اپنے آپ کو کسی نبی سے افضل نہیں کیا۔جب تک بار بار کی وحی نے آپ کو عام عقید سے ہٹانہ دیا۔جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود ؑفرماتے ہیں۔’’اسی طرح اوائل میں میرایہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے وہ نبی ہے۔اور خدا کے بزرگ مقرّبین میں سے ہے۔اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اسکو جز کی فضیلت قرار دیا تھا۔مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا۔اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔مگر اس طرح سے کہ ایک پہلوسے نبی اور ایک پہلوسے امتی“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۲،۱۵۳) پس خداتعالی نے کیا پہلے حکم کو بدلا نہیں اور آپ جزوی نبی سے پورے نبی نہیں بنائے گئے۔بلکہ بار بار کی وحی میں چونکہ آپ کوئی کہہ کر پکار آگیا اس لئے آپ کو علم ہو گیا کہ میں ہی ہوں (گو