انوارالعلوم (جلد 2) — Page 378
انوار العلوم جلد ۳۷۸ اس وقت الہام ہو چکا تھا کہ تو عیسیٰ ہے۔سو میں پہلے ان الہاموں کی اور تاویل کرتا رہا۔لیکن بعد میں اس تاویل کی غلطی معلوم ہو گی۔اور اس تاویل کو ترک کر کے صاف اقرار کرنا پڑا کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے ہیں۔اب آپ فرمائیں کہ کیا آپ کے خیال میں اس عبارت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم براہین احمدیہ کے زمانہ تک تو زندہ تھے۔لیکن بعد میں فتح اسلام کے وقت فوت ہو گئے ہیں آپ ایسا نہیں کہہ سکتے۔حضرت مسیح موعودؑ کی عبارت کا مطلب صاف ہے کہ گوایسےالہامات تو پہلے بھی موجود تھے لیکن باوجودان الہامات کے پھر بھی میں عام عقیدہ کے مطابق لکھتارہا۔نہ یہ کہ پہلے واقعہ اور تھا اور بعد میں اور بدل گیا۔حضرت مسیح تو براہین کے وقت بھی اسی طرح فوت شدہ تھے۔جیسے کہ فتح اسلام یا ازالہ اوہام کے وقت۔لیکن حضرت صاحب پہلے عام عقیدہ کی پیروی کرکے اپنے الہامات کی اور تاویل کرتے رہے لیکن بعد میں اللہ تعالی کی بار بار کی وحی نے آپ پر ثابت کیا کہ در حقیقت عام عقید ہ غلط تھا۔اور یہ کہ در حقیقت آپ ہی مسیح موعود تھے۔اسی طرح براہین احمدیہ کے زمانہ سے آپ کو نبی کے لفظ سے پکارا جاتا تھا۔لیکن چونکہ عام عقیدہ اس کے خلاف تھا۔آپ اس کے خلاف عقیدہ رکھتے رہے اور اگر کوئی لفظ آپ کی فضیلت کا آتا تو آپ اسے جز ئی فضیلت قرار دیتے کیو نکہ غیرنبی کو نبی پر تمام شان میں فضیلت نہیں ہو سکتی اور تریاق القلوب میں بھی آپ نے یہی عقیدہ بیان فرمایا۔لیکن ۱۹۰۰ء کے بعد آپ کو یہ خیال بدلنا پڑا۔کیونکہ جیسا کہ آپ نے خود لکھا ہے۔بار بار کے الہام سے آپ نے سمجھا کہ خدا تعالی نے میرا نام نبی رکھا ہے۔تعجب ہے ایسی صاف عبارت اور صاف حوالہ کے ہوتے ہوئے آپ نے یہ نتیجہ نکالا کہ میرے خیال میں پہلے مسیح موعود جزوی نبی تھے بعد میں نبی ہوئے۔میں نے تو یہ لکھا ہے اور حضرت مسیح موعودؑ نے براہین میں حیات مسیح کے عقیدہ کی مثال دے کر خوب واضح کردیا ہے کہ آپ کا درجہ نہیں بدلا۔اور واقعات میں کچھ تغیر نہیں آیا۔بلکہ آپ کی رائے میں تغیر ہوا۔اور بعد میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اور علم دیا گیا۔اب اگر ایسی صاف باتوں کے بھی ایسے الٹے معنی ہوئے شروع ہو گئے تو مجھے خوف ہے کہ کل کو کوئی یہ نہ لکھ دے کہ حضرت مسیح موعودؑ کا عقیدہ تھا کہ براہین کے وقت تو مسیح زندہ تھے۔بعد میں فوت ہوئے۔ایسی باتوں کا جواب میرے پاس تو کوئی نہیں۔اور جب ایسے اہم مسائل میں بغیر کافی غور کے جواب دینے کی کوشش کی جائے۔اور یہ بھی نہ غور کیا جائے کہ کہنے والا کہتا کیا ہے تو فیصلہ کی صورت کیا ہو سکتی ہے۔جو لوگ اپنے آپ کو ذمہ دار او راہل الرائے خیال کرتے ہیں۔ان لوگوں کو تو ضرور بات کو سمجھ کر اور پھر اس پر غور کر کے اگر غلط ہو تو اس کا