انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 373

۳۷۳ شائع ہوئی۔اور الحکم میں اس کا اعلان ہو گیا۔اس درمیانی عرصہ میں صرف ۱۸۹۹ء پر ریویو کرتے ہوئے جنوری ۱۹۰۰ء میں تریاق القلوب کی تالیف و طبع کا میں نے ذکر کیا۔اور پھر جیسا کہ ستمبر۱۸۹۹ء میں وعدہ کیاگیا تھا اس کے شائع ہونے پر اکتوبر۱۹۰۲ء میں اعلان کیا۔یہ واقعات صحیح ہیں اور تاریخی ثبوت اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور میں علم و یقین میں ان کوصحیح سمجھتا ہوں کہ ۱۸۹۹ء کے بعد از آخری ورق تریاق القلوب کے اور ٹائٹل کے حضرت اقدس نے اس کے متعلق کچھ نہیں لکھا۔الراتم خاکسار یعقوب علی۔ا یڈیٹر الحکم- قادیان اوپر کے زبردست ولائل سے اور پھران شہادتوں سے یقینی طور پر ثابت ہے کہ تریاق القلوب۱۹۰۰ء کے ابتداء کی لکھی ہوئی کتاب ہے۔اور ۱۹۰۲ء میں صرف شائع ہوئی۔اور اشتہار غلطی کا ازالہ اور ریویو اور کشتی نوح کے مضامین باوجود پہلی تاریخوں کی اشاعت کے در حقیقت تریاق القلوب سے بعد کے ہیں اور اس کے ناسخ ہیں۔اور اگر کوئی شخص باوجود ان ظا ہر ثبوتوں کے اپنی ضد کو ترک نہ کرے۔تو اس کا معاملہ خدا سے ہے ایسا شخص غالباًکہہ دے گا کہ نزول المسیح اور براہین حصہ پنجم حضرت کی سب سے آخری کتابیں ہیں کیونکہ یہ ۱۹۰۸ء میں شائع ہوئی ہیں۔حالانکہ ایک تو ۱۹۰۲ء سے لکھی جانی شروع ہوئی۔اور پھر۱۹۰۳ء میں بند ہو گئی۔اور بغیر کسی حرف کی زیادتی کے حضرت مسیح موعودؑ کی وفات کے بعد ۱۹۰۸ء میں شائع کی گئی۔اور دوسری کتاب ۱۹۰۵ء میں شروع ہوئی۔اور اسی سن میں بند ہو کر پڑی رہی۔اور آپ کی وفات کے بعد شائع ہوئی۔پس ان دلائل اور ان نظائر کے موجود ہوتے ہوئے جو شخص اپنی ضد پر قائم رہے۔اور باوجود مسیح موعودؑکی حقیقۃ الوحی والی اپنی تحریر کے پر بھی تریا ق القلوب کو بعد کی تصنیف قرار دے تو اس کا معاملہ خدا تعالیٰ سے ہے۔اس کے سمجھانے کی طاقت کسی انسان میں نہیں۔آخر میں ہم ایک اور دلیل بھی اس جگہ دیتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تریاق القلوب دافع البلاء سے پہلے کی ہے۔و ھو ھذا۔حضرت اقدس حقيقۃ الوحی میں فرماتے ہیں’’ اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔۔۔۔جب تک مجھے اس سے علم نہ ہوا۔میں وہی کہتارہاجو اوائل میں میں نے کیا۔اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا۔میں انسان ہوں مجھے عالم الغیب ہونے کا دعویٰ نہیں۔بات یہی ہے جو شخص اسے قبول کرے یا نہ کرے“۔(روحانی خزائن جلد۲۲ صفر ۵۳-۱۵۴)