انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 321

۳۲۱ کیونکر ہوا۔خواجہ صاحب! نہ معلوم آپ نے یہ بات کہاں سے معلوم کی کہ احمدیت کی روک کا اصل باعث تکفیر ہے اگر یہ بات تھی تو چاہئے تھا کہ جب سے آپ الگ ہوئے ہیں آپ کا حصۂ جماعت سرعت سے بڑھنے لگتا لیکن بجائے اس کے آپ نے تو کوئی معتدبہ ترقی نہیں کی لیکن برخلاف آپ کے بیان کے کہ ’’پیارو تم احمدیت کو تو کیا پھیلاؤ گے سنو! اور ہوش سے سنو!! اگر وہ خبر درست ہے جو مجھے گذشتہ ہفتہ معتبر ذرائع سے معلوم ہوئی ہے تو تمہاری رفتارِ احمدیت جو نہایت سرعت سے خراسان اور حدودِ افغانستان میں جاری تھی ختم ہوگئی اور بہت سے احمدی احمدیت سے الگ ہوگئے اور اس کے ذمہ دار دو ہی مسئلے ہیں جیسے مجھے اطلاع ملی ایک تکفیرِ غیر احمدیاں اور دوسری مرزا صاحب کی نبوتِ مستقلہ۔کوئی شخص نفاق کے سوائے اس عقیدہ پر افغانستان میں نہیں رہ سکتا‘‘۔(صفحہ ۱۶)احمدیت نہایت زور سے بڑھ رہی ہے اور پچھلے چند ماہ میں سینکڑوں نئے آدمی سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں جن میں انگریزی علوم کے لحاظ سے ایم۔اے اور بی۔اے بھی شامل ہیں۔عربی علوم کے لحاظ سے تحصیل یافتہ مولوی ہیں، سرکاری عہدوں کے لحاظ سے ای۔اے۔سی اور اسسٹنٹ انسپکٹران سکول ہیں۔رئیسوں کے لحاظ سے بڑے بڑے جاگیردار ہیں غرض کہ غریب بھی اور امیر بھی جو اپنے اندر نہایت اخلاص رکھتے ہیں اس سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں اور مبائعین میں شامل ہوئے ہیں۔بعض کو لوگ تکلیفیں بھی دیتے ہیں لیکن صبر سے کام لے رہے ہیں اور اپنے عقائد کو بدلنے کی انہیں کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔پھر میں کیونکر مان لوں کہ ہمارے عقائد سلسلہ کے راستہ میں روک ہیں اور کیونکر تسلیم کر لوں کہ اب سلسلہ کی ترقی رُک گئی ہے۔اگر آپ کا خیال درست ہوتا تو واقعات اس کی تصدیق کرتے اور بجائے ہماری ترقی کے تنزّل ہوتا اور بجائے ہمارے بڑھنے کے آپ بڑھتے لیکن باوجود اس کے خلاف خدائے تعالیٰ کا معاملہ دیکھنے کے آپ کو ہم راستی پر کیونکر مان سکتے ہیں؟ خواجہ صاحب نے ایک یہ شکوہ بھی کیا ہے کہ وہ جب ہندوستان میں آئے تو ان کا ارادہ فوراً قادیان جانے کا تھا لیکن بعض غیر ذمہ دار لوگوں کی تحریروں کی وجہ سے جن میں اُنہوں نے غیرمبائعین سے مِلنے جُلنے اور بولنے کی ممانعت کی ہے میں رُک گیا۔پھر وہ شکایت کرتے ہیں کہ اگر احمدیوں سے یہ سلوک ہے تو غیر احمدیوں اور پھر عیسائیوں سے کیا سلوک کرنا چاہیے۔اوّل تو یہ سوال ہے کہ یہ مضمون کب نکلا اور آپ لاہور کب تشریف لائے۔اگر آپ کا ارادہ تھا کہ فوراً ہی قادیان