انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 320

۳۲۰ دینا کہ میرے یہ اعتقادات ہیں اتحادِ عمل کے لئے آپ مجھے اپنی جماعت میں داخل کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اور اس شخص کا اسے بیعت میں داخل کرنا نفاق نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی نواب صاحب کو لکھا تھا کہ آپ شیعہ رہ کر بھی بیعت کر سکتے ہیں۔چنانچہ نواب صاحب کی گواہی ذیل میں درج ہے۔’’میں نے بہ تحریک اپنے استاد مولوی عبداللہ صاحب فخری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں غالباً آخر ۱۸۸۹ء یا ابتدائے ۱۸۹۰ء میں خط دعا کے لئے لکھا تھا۔جس پر حضرت نے جواب میں لکھا کہ دعا بِلا تعلق نہیں ہو سکتی آپ بیعت کر لیں۔اس پر میں نے جواباً ایک عریضہ لکھا تھا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ میں شیعہ ہوں اور اہلِ تشیع اَئمہ اِثناعشر کے سوا کسی کو ولی یا امام نہیں تسلیم کرتے اس لئے میں آپ کی کس طرح بیعت کر سکتا ہوں؟ اِس پر حضرت نے ایک طولانی خط لکھا جس کامَا حصل یہ تھا کہ اگر برکات روحانیہ محض اَئمہ اِثنا عشر پر ختم ہوگئے تو ہم جو روز دعا مانگتے ہیں کہ اھدنا الصراط المستقیم۔صراط الذین انعمت علیھمیہ سب بیکار ہے۔اور اب مے تو ہو چکی دود۱۵؎ باقی ہے۔کیا ہم دود کے لئے اب مشقت ریاضات کریں؟ حضرت نے یہ بھی لکھا کہ منجملہ ان لوگوں کے جو حضرت امام حسین کے ہم پلہ ہیں میں بھی ہوں بلکہ ان سے بڑھ کر۔اس خط سے ایک گونہ میرا رُحجان ہو گیا مگر میں نے پھر حضرت کو لکھا کہ کیا ایک شیعہ آپ کی بیعت کر سکتا ہے؟ تو آپ نے تحریر فرمایا کہ ہاں۔چنانچہ پھر بمقام لدھیانہ ستمبر یا اکتوبر ۱۸۹۰ء میں میں حضرت سے ملا اور اس ملاقات کے بعد میں نے حضرت صاحب کو بیعت کا خط لکھ دیا مگر ساتھ ہی لکھا کہ اس کا اظہار سرِدست نہ ہو۔مگر ازالہ اوہام کی تصنیف کے وقت حضرت نے لکھا کہ مجھ کو اس طرح آپ کا پوشیدہ رکھنا نامناسب معلوم ہوتا ہے۔میں آپ کے حالات ازالہ اوہام میں درج کرنا چاہتا ہوں۔آپ اپنے حالات لکھ کر بھیج دیں چنانچہ میں نے حالات لکھ دیئے او رباوجود بیعت اور تعلق حضرت اقدس میں ۱۸۹۳ء تک شیعہ ہی کہلاتا رہا اور نماز وغیرہ سب ان کے ساتھ ہی ادا کرتا تھا بلکہ یہاں قادیان اس اثناء میں آیا تو نماز علیحدہ ہی پڑھتا رہاتھا۔۱۸۹۳ء سے میں نے شیعیت کو ترک کیا ہے۔محمد علی خان‘‘۔خواجہ صاحب نفاق تو اس کو کہتے ہیں کہ ظاہر اور بات کی جائے اور دل میں اور ہو لیکن جو شخص آگے آ کر خود کہہ دے کہ میرا یہ عقیدہ ہے وہ نفاق کا مرتکب کیونکر کہلا سکتا ہے اور جس کی بیعت کرتا ہے اس سے کبھی اس عقیدہ کو پوشیدہ نہ رکھے اور وہ اسے اجازت دے دے تو یہ نفاق