انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 275

معنوں کی روسے کہ آپ کوئی نئی شریعت لائے حقیقی نبی نہ تھے۔اسی طرح مستقل نبی کے معنی خود حضرت مسیح موعود ؑ نے یہ کئے ہیں کہ جس کو بلا واسطہ نبوت عطا ہو۔اور جو کسی اور نبی کی اتباع سے انعام نبوت نہ حاصل کرے۔ان معنوں کے لحاظ سے ہم حضرت مسیح موعودؑ کو ہرگز مستقل نبی نہیں مانتے۔اور اگر میں نے یا میرے مریدوں میں سے کسی نےایسا لکھا ہے تو آپ اس تحریر کو پیش کریں۔ورنہ آپ غلط الزام لگانے کے الزام کے نیچے آجائیں گے۔انصاف چاہتا ہے کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں اس کا ثبوت دیں۔اگر تحریر نہیں تو کم سے کم آپ ویسی ہی حلف اٹھا جائیں جو حضرت مسیح موعودؑ نے تریاق القلوب میں بیان فرمائی ہے کہ آپ نےمجھ سے ایساسناہے یا کسی میرے مبائع سے ایساسنا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت کو بلاواسطہ مانتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ کو نبوت آنحضرت ﷺ کی اتباع کے بغیر ملی تھی اور آپ پر آنحضرتﷺ کی اتباع فرض نہ تھی یا یہ کہ آپ کی وفات تک کوئی ایسی گھڑی آپ پر آئی تھی۔جس میں آپ آنحضرت ﷺ کی اطاعت سے آزاد ہو گئے تھے۔اگر آپ الی حلف میرے متعلق اٹھائیں گے تو میں مقابل پرویسی ہی حلف اٹھاؤں گا کہ میں نے ایسانہیں کہا۔پھر خدا تعالیٰ فیصلہ کرےگا۔اور اگر آپ میرے کسی مرید کی نسبت یہ بات ثابت کردیں اور وہ اس الزام کو مان لے تو میں اس شخص کو اگر توبہ نہ کرے فورا ًاپنی بیعت سے خارج کر دوں گا۔اور اگر وہ اس الزام سے انکارکرے تو میں اسے مجبور کر دوں گا کہ وہ بھی آپ کے مقابلہ میں تریاق القلوب والی قسم کھاجائے۔اور اس کے بعد میں الہٰی فیصلے کامنتظر رہوں گا۔اور اگر آپ ایسا نہ کریں تو مجھے پھرافسوس سے کہنا پڑے گا کہ آپ نے ایک نہایت لطیف مشورہ دیا تھا کہ ہمیں احتیاط سے اس جھگڑے کا فیصلہ کرنا چاہئے لیکن خوداحتیاط سے کام نہ لیا۔خواجہ صاحب نے اپنے اس رسالہ میں میرے ایک خط کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔جو میں نےبرادرمحمد عثمان صاحب لکھنوئ کی طرف لکھا ہے لیکن مجھے تعجب ہے کہ جب خواجہ صاحب کو کسی نے اس خط کے واقعہ سے آگاہ کیا تو آگے یہ نہ بتایا کہ اس خط کی اشاعت پر جب ڈاکٹر مرزایعقوب بیگ صاحب نے یہ اعلان کیا تھا کہ شکر ہے میاں صاحب نے اپنے پہلے عقیدہ سے توبہ کرلی تو ان کےاس اعلان پر میں نے ایک اشتہار شائع کیا تھا۔جس میں میں نے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر وہ سچے ہیں تو میرا وہ پہلا عقید ہ شائع کریں۔جو اس خط میں ظاہر کردہ عقیدہ کے خلاف ہو یا حلف اٹھا جائیں کہ میں نے آپ کی تحریر میں پڑھا نہیں۔لیکن اپنے کانوں سے یہ بات سنی ہے تو چھ سو روپیہ انعام بھی