انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 274

انوار العلوم جلد۲ ۴۷۴ کے بعد ہوتی ہے۔اور اس نبی کے بعد جو کسی دوسرے نبی کی اتباع سے نبوت حاصل کرے یانئی شریعت نہ لائے خلافت نہیں ہوتی۔پس ہمیں خلافت کے ثبوت کے لئے اس مصیبت میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔جس کی طرف آپ کی توجہ گئی ہے آپ نے ایک ایسے خیال کو پیش کیا ہے۔جس تک ہمارے ذہنوں کو کبھی بھی رسائی نہیں ہوئی۔پیشتر اس کے کہ میں خواجہ صاحب کے اس حوالہ سے آگے گذروں۔میں خواجہ صاحب سےیہ بھی پوچھتا ہوں کہ آپ نے میری یا میرے مبائعین کی کسی تحریر میں یہ بات لکھی دیکھی ہے کہ حضرت مسیح موعودؑنئی شریعت لائے تھے یا یہ کہ آپ کو آنحضرتﷺ کی اتباع سے باہر نبوت کاخ خلعت عطا ہوا ہے۔اگر آپ ایسا کوئی حوالہ پیش نہیں کر سکتے۔تو کیا یہ بات قابل افسوس نہیں کہ آپ ایسا الزام مجھ پر اور میری جماعت پر لگاتے ہیں جو واقعات کے صریح خلاف ہے۔دوسرے نون اگر اس بات کی جرات کر لیتے تو کر لیتے۔لیکن آپ تو اپنے سارے رسالہ میں اپنی ذمہ داری اور حضرت مسیح موعوؑد اور خلیفہ اول ؓکے قرب کے ثبوت پیش کرتے رہے ہیں۔آپ کی شان سے یہ بات بالکل بعید تھی کہ ایک بات بلا ثبوت پیش کر دیں۔حضرت مسیح موعودؑنے حقیقی نبی کے خودیہ معنی فرمائے ہیں کہ جو نئی شریعت لائے۔پس ان معنوں کے لحاظ سے ہم ان کو ہر گز حقیقی نبی نہیں مانتے۔اور ایسی کوئی تحریر آپ پیش نہیں کرسکتے جس میں میں نے یا کسی مبائع نے یہ بات لکھی ہو کہ حضرت مسیح موعود ؑجدید شریعت لانے والے اور سارے قرآن کریم یا اس کے کسی چھوٹے سے چھوٹے حصے کو منسوخ کرنے والے تھے۔اور اگر ہمارا ایاخیال ہو تا تو چاہئے تھاکہ ہماری نمازوں اور ہمارے روزوں میں فرق ہوتا۔اور وہ شریعت ہم دنیا کے سامنے پیش کرتے جس پر اب ہمارا عمل ہے لیکن کیا کوئی ایسا اعلان میری طرف سے یا میرے مبا ئعین کی طرف سے ہوا ہے۔اگر ہواہے تو مہربانی فرما کر آپ اسے پیش کریں۔اور اگر حقیقی نبی کے معنی ان معانی کے علاوہ جن کا میں اوپرذکر کر آیا ہوں لئے جائیں تو پہلے ہمارے سامنے دو معنی پیش کئے جائیں، پھر ہم رائے دے سکیں گے کہ آیا حضرت صاحب کو ان معنوں کے لحاظ سے ہم نبی مانتے ہیں یا نہیں۔مثلاً اگر کوئی شخص حقیقی نبی کے یہ معنی کرے کہ وہ نبی جو بناوٹی یانقلی نہ ہو بلکہ در حقیقت خدا کی طرف سے خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ اصطلاح کے مطابق قرآن کریم کے بنائے ہوئے معنوں کے روسے نبی ہو اور نبی کہلانے کا مستحق ہو - تمام کمالات نبوت اس میں اس حد تک پائے جاتے ہوں جس حد تک نبیوں میں پائے جانے ضروری ہیں تو میں کہوں گا کہ ان معنوں کے رونے حضرت مسیح موعود ؑحقیقی نبی تھے گو ان