انوارالعلوم (جلد 2) — Page 220
۲۲۰ معاملہ میں اول دیکھو اور پھر کفو کو بھی اس حد تک دیکھو جہاں تک کہ اس کا اخلاق و عادات سے تعلق ہے اور خوب یاد رکھو کہ اپنا فرض ادا کرنے کے لئے تمہیں بہت کچھ قربانیوں کی ضرورت ہے اور گو احمدی کو غیر احمدی کی لڑکی لینی جائز ہے۔لیکن آج ہماری ضروریات چاہتی ہیں کہ جماعت اس تجویز پر عمل کرے کہ غیر احمدیوں کو نہ لڑکی دے اور نہ ان کی لڑکی لے۔حضرت مسیح موعودؑ نے جو اعلان اس کے متعلق سب سے پہلے شائع فرمایا تھا اس میں یہی حکم تھا کہ احمدیوں کی شادی آپس میں ہی ہو مگر پھر یہ اجازت فرما دی کہ غیر احمدی لڑکی سے احمدی شادی کر سکتا ہے مگر اب ضرورت مجبور کرتی ہے کہ کچھ مدت کے لئے پھر اسی حکم پر عمل کیا جائے یعنی نہ غیر احمدیوں کو لڑکیاں دی جائیں اور نہ سوائے کسی اشد ضرورت کے ان کی لڑکیاں لی جائیں۔کیونکہ اس وقت ہماری جماعت تھوڑی ہے اور یہ دقّت پیش آرہی ہے کہ احمدی تو غیروں کی لڑکیوں سے شادی کر لیتے ہیں اور جو احمدی لڑکیاں ہیں وہ غیروں کے ہاں جانہیں سکتیں پس ان کے لئے رشتہ ملنے میں دقّت ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض کمزور احمدیوں کو ابتلاء آجاتا ہے اور وہ غیر احمدیوں کو اپنی لڑکیاں دے دیتے ہیں۔مجھے بہت سے لوگ لکھتے ہیں کہ لڑکی جوان ہے آپ کہیں شادی کا انتظام کر دیں۔میں اس کے لئے جب اپنی جماعت کے لڑکوں پر نظر ڈالتا ہوں تو ان کی شادیاں غیر وں کے گھر ہوتی جاتی ہیں ہم کہتے ہیں کہ اگر احمدی لڑکوں کی شادیاں غیر احمدیوں کے ہاں کی جائیں تو احمدی لڑکیاں کہاں جائیں۔کیا تم یہ پسند کرتے ہو؟ کہ وہ غیر احمدیوں کے ہاں جا کر ابتلاؤں میں پھنسیں۔پس جماعت وہی قائم رہ سکتی ہے جو اپنے تمام افراد کا خیال رکھے۔آج کل تم اس بات کا خیال کر کے غیروں کی لڑکیاں نہ لو اور اپنوں کو ابتلاؤں سے بچاؤ تا کہ تمہاری جماعت مضبوط ہو۔نماز با جماعت اس کے بعد ایک اور نقص ہے جس کی طرف میں آپ لوگوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔بعض نقص گو چھوٹے نظر آتے ہیں مگر بعد میں وہی بہت بڑھ جاتے ہیں۔اور بڑے نقصان کا موجب ہو جاتے ہیں۔ہماری جماعت میں ایک نقص ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہ بہت حد تک مجبوری کی وجہ سے ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ ہر ایک احمدی کو خوب ہوشیار رہنا چاہئے۔اگر اس نقص کے دور کرنے کی طرف ہماری جماعت نے توجہ اور غور نہ کیا تو تھوڑی مدت میں یہ ایک خطرناک صورت اختیار