انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 219

۲۱۹ دیکھے جاتے ہیں کہ نتیجہ نیک نکلے۔اگر کسی کو اپنے اخلاق اور عادات کے مطابق کوئی کامل جائےخواہ وہ کسی قوم سے ہو تو اس سے رشتہ کر دینا چاہئے۔جو آج دنیا سمجھا جاتا ہے وہ کل شریف ہوسکتا ہے۔ایک شخص اگر اوئی حیثیت سے مثلا چوزے سے مسلمان ہو تو میں اس وقت اس کے ساتھ مل کر کھانا کھالوں کا اور میں اس کا جوٹھا کھا سکتا ہوں اور وہ میرا جوٹھا کھا سکتا ہے۔کیونکہ جب اس نے لااله الا الله محمد رسول الله كہا تو میرے اور اس میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔اسلام کے لحاظ سے ہو میرے حقوق ہیں وہی اس کے ہیں۔اس میں ذرہ بھر بھی فرق نہیں ہے۔حضرت عمر عنہ کے زمانہ میں ایک بادشاہ مسلمان ہو کر آیا تھا۔کعبہ کا طواف کرتے وقت کی بحالی کے پاؤں کے نیچے اس کا کپڑا کر گر گیا۔اس نے اس کو تھپڑ مارا۔کسی نے اس سے کہا کہ حضرت عملا تجھے سے اس کا بدلہ لیں گے۔اس نے کماکیا مجھے ان کے بادشاہ سے اس مفلس کے مارنے کا بدلہ لیں گئے ؟ اور کیا مجھے بھی نہیں چھوڑیں گے ؟ اس نے کیا نہیں اس کو جو زیا رشک ہواتو جا کر حضرت عمر ء کو کہنے لگا۔کہ کیا اگر کوئی بڑا آدمی کی رذیل کو مارے تو آپ اس کا بدلہ تو نہیں لیں گے؟ انہوں نے گماء اربد تو کسی کو بار تو نہیں بیٹھا اگر تم نے کسی کو مارا ہے تو خدا کی تم میں ضرور تم سےاس کا بدلہ لوں گا یہ سن کر رات کو وہ بھاگ گیا اور اس کی تمام قوم عیسائی ہو گئی۔حضرت نے فرمایااس کی ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔تو حقوق کے لحاظ سے نسب مسلمان برابر ہیں مگر شادی میں صرف اسی بات کا خیال نہیں رکھتا بلکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ جن دو شخصوں کاپیوند ساری عمر کے لئے ہونے لگاہے ان میں آپس میں اخلاق کا کوئی فرق نہیں اور بعض اقوام کے اخلاق گرے ہوئے ہوتے ہیں پس ان سے ضرور علیحدہ رہنا پڑے گا کہ ہمیشہ کا ترانہ پیدا ہو جائے لڑکے لڑکی کے امین اور آرام کی وجہ سے ایک حد تک کفو کا خیال بھی رکھنا پڑے گا۔لیکن جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ہر ایک چنے کی حدہوتی ہے۔خدا تعالی نے ان اكرمكم عند اللہ اتقكم فرماکر یہ قاعدہ بتا دیا ہے کہ اصل شرافت تقوی تی ہے۔پس تم بھی اس بات پر دلیری نہ کرو کہ فلاں قوم کلینی ہے تم بے شک بعض قوموں سے اختلاف اخلاق و عادات کی وجہ سے رشتہ میں پرہیز کرو لیکن کسی کو دفیع نہ کہو کیونکہ جو آج شریف ہو تا ہے وہ حالات کے بدلنے سے دفع ہو جا تا ہے اللہ تعالی کے حضور سارے ایک جیسےہیں۔جس کے اخلاق اور عادات اچھے ہیں وہی اعلی ہے پس اگر ایا ہو کہ مرد کے ایسے خیالات اور عادات ہیں جو لڑکی کے خاندان کے خلاف ہیں تو ان کی شادی نہیں ہونی چاہئے۔نگرانی شراگانا کہ مغل ہو اور مغل بھی برلاس ہو وغیرہ وغیرہ۔یہ نہیں ہونا چاہئے۔تم نیکی اور تقوی کو شادی کے