انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 148

۱۴۸ احکام کو نہ سنا اور باوجوددل ہونے کے اس کے منشاء کو نہ سمجھا اور اپنے ساتھ اپنی رعایا کو بھی تباه کر دیا کیوں کہ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةًۚ۔چونکہ ترکی حکومت بظاہر ایک اسلامی حکومت کہلاتی ہے اس لئے مسلمانوں کے دلوں میں قدرتاً یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ اس موقعہ پر ان کو کیا کرنا چاہئے اور جبکہ ایک طرف وہ سلطنت ہےجو کہ اور مدینہ کی محافظ ہے اوردوسری طرف وہ جو ہمارے اموال اور جانوں کی محافظ ہے تو ہم کس سے ہمدردی کریں اس لئے میں اس اعلان کے ذریعہ اپنی تمام جماعت کو اطلاع دیتا ہوں کہ ان کاطريق عمل واضح ہے اور ان کو بجائے خود فکر کرنے کے اپنے امام کی طرف نگاہ کرنی چاہئے کہ وہ کیافیصلہ کرتا ہے او روہی ہمار ا حقیقی ہادری اور رہنما ہے کیونکہ وہ خدا کامسیح اور مہدی ہے اور اس کے حکم ہم سب کے لئے خواہ بڑے ہوں خواہ چھوٹے واجب التعمیل ہیں۔ممکن ہے کہ بعض بیوقوف سلطانِ روم کو اپنا سردار اور آقا خیال کرتے ہوں لیکن ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ایسا نہیں سمجھ سکتے کیونکہ حضرت مسیح موعود ؑلکھتے ہیں: "مجھے نہ سلطان روم کی طرف کچھ حاجت ہے۔اور نہ اس کے کسی سفیر کی ملاقات کا شوق ہے۔میرے لئے ایک سلطان کافی ہے جو آسمان اور زمین کا حقیقی بادشاہ ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ قبل اس کے کہ کسی دوسرے کی طرف مجھے حاجت پڑے اس عالم سے گزر جاؤں۔آسمان کی بادشاہت کے آگے دنیا کی بادشاہت اس قدر بھی مرتبہ نہیں رکھتی جیسا کہ آفتاب کے مقابل پر ایک کیڑا مرا ہوا پھر جبکہ ہمارے بادشاہ کے آگے سلطانِ روم ہیچ ہے تو اس کا سفیر کیا چیز۔میرے نزدیک واجب التعظیم اور واجب الاطاعت اور شکر گزاری کے لائق گورنمنٹ انگریزی ہے جس کے زیر سایہ امن کے ساتھ یہ آسمانی کارروائی میں کر رہا ہوں۔ترکی سات آج کل تاریکی سے بھری ہوئی ہے اوروہ شامتِ اعمال بھگت رہی ہے اور ہرگز ممکن نہیں کہ اس کے زیر سایہ رہ کر ہم کسی راستی کو پھیلاسکیں۔شاید بہت سے لوگ اس فقره سے ناراض ہوں گے مگر یہی حق ہے‘‘ (اشتہار حسین کامی سفیر سلطان روم‘‘ صفحہ ا۔۲) آگے چل کر اسی اشتہار کے صفحہ د و پر ترکی گورنمنٹ کی ردی حالت کی نسبت تحریر فرماتے ہیں اس ترکی سفیر کے سامنے جو قادیان آیا تھا۔’’ میں نے کئی اشارات سے اس بات پر بھی زور دیا کہ رومی سلطنت خدا کے نزدیک کئی باتوں میں قصور وار ہے اور خدا سچے تقویٰ اور طہارت اور نوع انسان کی ہمدردی کو چاہتا ہے اور روم کی حالت موجو دہ بربادی کو چاہتی ہے توبہ کرو تانیک پھل پاؤ۔مگر میں اس کے دل کی طرف خیال کر رہا تھا کہ وہ ان باتوں کو بہت ہی برا مانتا تھا اور یہ ایک