انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 147

۱۴۷ بسم الله الرحمن الرحیم نحمد و نصلی علی رسولہ الکریم جماعت احمدیہ پچھلے چند روزسے متواترخبریں آرہی ہیں کہ ترکی حکومت بھی اس عظیم الشان جنگ میں شامل ہوگئی ہے جس میں اس سے پہلے سات طاقتیں مشغول تھیں اور اس کا شامل ہونا بالکل بے سبب اور بے وجہ معلوم ہوتاہے اور اس کی وجہ سوائے اس کے کچھ معلوم نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ ترکوں کو ان کی بد اعمالیوں اور ظلموں کی پوری سزادینا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس وقت تک جو وہ اپنے ملک اور اپنی رعایا کے فوائد سے بے خبر رہ کر عیش و عشرت اور آپس کے لڑائی اور جھگڑوں میں مبتلاء رہے ہیں اس کی ان کو پوری سزا دے کیونکہ جن طاقتوں کے مقابلہ کے لئے اس نے تلوار اٹھائی ہے ان سے عمدہ بر آہو اس کا کام نہیں اور وہ اس میدان کاجوان نہیں اس کا ان کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہونا ایسا ہی ہے یا ایک چوہے کا پہاڑسے سرٹکرانا ایک چیونٹی کا سمندری لہروں کامقابلہ کرنا۔انہوں نے اپنی حماقت اور جہالت کی وجہ سے باوجود ایک بکرو ٹہ ہونے کے شیرپر ہاتھ ڈالاہے اور ایک چڑیا ہو کر باز پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی ہے کاش وہ اتنا خیال کر لیتے کہ ہم جن طاقتوں سے مقابلہ کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں ان کے متعلق رسول کریم ﷺ نے لا یدان لاحد فرمایا ہے۔اس جنگ میں جس قدر خون ہوں گے ان کا گناه ترکوں کے سر پر ہو گا اور بقیہ اسلامی عظمت کے ضائع کرنے کا الزام بھی انہیں کے ذمہ لگے گا کیونکہ انہوں نے وقت کو نہ پہچانااور نہ منشاے الہٰی کو سمجھا کاش ده بجاۓ انگلستان سے جنگ کرنے لئے اپنے نفس سے جنگ کرتے اور بجائے تلوار کھینچنے کے انصاف و عدل کی طرف متوجہ ہوتے اور بجائے دوسروں کو کافر قرار دے کر ان سے جہاد کرنے کے اپنے دل کے کفر کو دور کرتے کیونکہ یہ ان کے لئے بہتر اور مبارک ہوتا انہوں نے با وجود آنکھوں کے خدائے تعالیٰ کی قضاء وقدر کو نہ دیکھا اور باوجو دکانوں کے اس کے