انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 139

۱۳۹ اس کے علاوہ کل مذاہب باطلہ پر حضرت مسیح موعودؑ نے اس طرح حجت قائم کی ہے کہ بڑےزور سے اعلان کیا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں اسلام کے غلبہ کے لئے مبعوث کیا ہے اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ سچا مذہب وہی ہے جو اپنے ساتھ نشانات رکھتا ہو اور جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے تعلق کا ثبوت دے سکے اور میں دعویٰ کرتا ہوں کہ اسلام اپنے اندر یہ شان رکھتاہے کہ ہر رات تازه سے تازہ نشان دکھائے اس لئے جس شخص کو اسلام کی صداقت میں شک ہو وہ میرے مقابلہ کے لئے آئے۔میں اس پر تازہ نشانات کے ساتھ اتمام حجت کرونگا اور اگر کوئی اور شخص کسی اور مذہب کی صداقت کا مدعی ہے تو اسے بھی چاہیے کہ میرے مقابلہ پر اپنے مذہب کی صداقت کا کوئی نشان دکھاۓ جوایسی شان رکھتا ہو کہ اسے انسان کی بناوٹ نہ کہا جا سکے اور آپ نے بڑے زورسے فرمایا۔کرامت گرچہ بے نام و نشان است بیا بنگر ز غلمانِ م حمدؐ مگر باوجودبار بار کے اعلان کے کسی مذہب کے پیروؤں کو جرأت نہ ہو سکی کہ اپنے مذہب کی زندگی کا ثبوت دیں اور سب لوگ اس مقابلہ سے جی چرا گئے اور اس طرح اسلام کا سب ادیان پرغلبہ ہوا میں اس اصل پر مفصل گفتگو کر آیا ہوں کہ سچا مذہب وہی ہو سکتا ہے جس کا مدار قصوں پرہی نہ ہو بلکہ وہ اپنے ساتھ تازه نشانات رکھتا ہو اور یہ وہ معیار ہے ہے حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے مخالفین کے سامنے پیش کیا اور کوئی مذہب بھی اس معیار پر پورا نہ اتر سکا سوائے اسلام کے۔پس مسیح موعود کی ذات سے وہ وعدہ پورا ہو اکہ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ (الصف : ۱۰) پنجاب میں ایک جماعت ہے جو سکھوں کے نام سے مشہور ہے اور گورنمنٹ برطانیہ کی سپاه میں ان کا بہت سا حصہ ہے اور برادری میں خاص طور پر مشہور ہے اس پر بھی ایک خاص رنگ میں آپ نے اتمام حجت کیا اور خو د انہی کی کتب سے ثابت کردیا کہ باوانانک صاحب جو اس فرقہ کے بانی ہیں مسلمان تھے اب یہ مذہب زیادہ تر ہندوؤں میں مل گیا تھا اور بالکل انہیں کی رسومات کا پابند تھالیکن آپ کے زبردست دلا ئل کا یہ اثر ہوا کہ ہندوؤں میں جذب ہونے کاجو میلان ان میں پیداہو رہا تھا یکلخت رک گیا اور اب ان میں سے بہت سی سعید رو حیں اسلام کی طرف مائل ہیں اور سکھوں میں سے کئی اسلام بھی لا چکے ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ عنقریب ان میں سے ایک کثیرگروه