انوارالعلوم (جلد 2) — Page 138
۱۳۸ اسرائیل آزاد ہوئے تو انکے بارہ قبائل میں سے صرف دو قبائل واپس آئے اور دس قبائل افغانستان اور کشمیر میں آباد ہو گئے اور کشمیر اور افغانستان میں کثرت سے نئی بستیاں موجود ہیں جن کےنام شام کی بستیوں سے ملتے ہیں۔یہ امر اور بھی ثابت کردیا ہے کہ یہاں کے باشندے اصل میں شام کے ہی رہنے والے تھے خود کشمیر جو ملک کا نام ہے اس امر کا شاہد ہے کیونکہ کشمیری لوگ اپنے آپ کو کاشیری کہتے ہیں نہ کہ کشمیری۔جس سے معلوم ہو تا ہے کہ اصل نام اس ملک کا کاشیر ہے یعنی کسیر۔ملک سیر کی مانند۔اور شام کا اصل نام سیریاہی ہے جسکے معنے ہیں پھولوں کی زمین۔اور چونکہ کشمیر میں بھی کثرت سے پھول ہوتے ہیں اس لئے بنی اسرائیل نے اپنے ملک کی یاد میں اس ملک کا کسیر رکھا یعنی سیریا کی مانند جوبگڑ کر کشمیر ہو گیا۔غرض کہ روشن دلائل سے حضرت مسیح موعودؑنے یہ مسیح کی وفات کو ثابت کر دیا اور آپ کی قبر کا بھی پتہ بتادیا جسکے بعد مسیحی مذہب کے پاس کوئی مفرّ نہیں رہتی کیونکہ جب حضرت مسیح ہی فوت ہو گئے تو اب کفار و او رابنیت سب کچھ خود بخود باطل ہو گیا اسی طرح اور بہت سے طرق سے حضرت مسیح موعود ؑنے مسیحیت کی کمزوریاں دکھائی ہیں اور اسقدر مواد جمع کر دیا ہے کہ مسلمانوں کو مسیحیوں پر فتح پانے میں اب کوئی روک نہیں بشرطیکہ مسلمان اپنی ضد اور ہٹ کو چھوڑ کراس مأمور من اللہ کے دامن سے اپنے آپ کو وابستہ کر لیں خدا کرے یہ دن جلد آئے تا اسلام پھر اپنی اصل شان میں دنیا پر ظاہر ہو۔حضرت مسیح موعودؑ نے جو طریق مباحثہ مسیحیوں کے لئے مقرر فرمایا ہے وہ ایسا زبردست او رایسامئوثر ہے کہ اسکے سامنے مسیحی بالکل ٹھہر نہیں سکتے اور یہ بات کل دنیا میں مسیحی پادریوں کے ذریعہ سے پھیل گئی ہے چنانچہ حبی فی الله عزیزم شیخ عبدالرحمن مولوی فاضل جن کو میں نے عربی زبان کی اعلیٰ تعلیم کے حصول اور تبلیغ کے لئے مصر بھیجا ہے لکھتے ہیں کہ ایک عرب نے آکر ان سے سوال کیا کہ ہمیں پادری بہت ستاتےہیں آپ کوئی ایسی دلیل بتائیں جس سے وہ آسانی سے شکست پاسکیں تو میں نے ان کو یہ دلیل بتادی کہ انجیل سے ہرگز ثابت نہیں ہو تاکہ حضرت مسیح صلیب پر فوت ہو گئے بلکہ انجیل سے تو ان کا صلیب سے زندہ اترنا ثابت ہے اور سب حوالے اسے یاد کرادیئے اس نے جا کر ایک بڑے پادری سے کہا کہ آپ تو کہتے ہیں کہ مسیح صلیب پر فوت ہو کر ہمارے لئے کفارہ ہؤا مگر وہ تو زنده صلیب سے اترا تھا پادری صاحب نے سن کر کہاکہ غلط ہے انجیل سے یہ بات کہاں ثابت ہے جب اس عرب نے حوالجات سنائے تو بے اختیار بول اٹھا کہ ھذا من القاديان هذا من القاديان اس نے جواب دیا کہ قادیان سے ہو یا کہیں سے ، آپ جواب دیں تو اس سے زیادہ گفتگو سے انکار کردیا۔