انوارالعلوم (جلد 26) — Page 37
انوار العلوم جلد 26 37 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت کہ میں حضرت عمرؓ کی بیعت کر رہا ہوں تو جب میں آیا تو آپ کی شکل مجھے نظر آئی۔اور دوسرے میں نے حضرت عمرؓ کو خواب میں دیکھا کہ اُن کے بائیں طرف سر پر ایک داغ تھا۔میں جب انتظار کرتا ہوا کھڑا رہا آپ نے سر کھلایا اور پگڑی اُٹھائی تو دیکھا کہ وہ داغ موجود تھا۔اس لئے میں آپ کی بیعت کرتا ہوں۔پھر ہم نے تاریخیں نکالیں تو تاریخوں میں بھی مل گیا کہ حضرت عمرؓ کو بائیں طرف خارش ہوئی تھی اور سر میں داغ پڑ گیا تھا۔سونام کی تشبیہ بھی ہوگئی اور شکل کی تشبیہہ بھی ہوگئی۔مگر ایک تشبیہہ نئی نکلی ہے۔وہ میں تمہیں بتا تا ہوں اس سے تم خوش ہو جاؤ گے۔وہ یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے جب اپنی عمر کا آخری حج کیا تو اُس وقت آپ کو یہ اطلاع ملی کہ کسی نے کہا ہے حضرت ابو بکر کی خلافت تو اچانک ہو گئی تھی یعنی حضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ نے آپ کی بیعت کر لی تھی۔پس صرف ایک یا دو بیعت کرلیں تو کافی ہو جاتا ہے اور وہ شخص خلیفہ ہو جاتا ہے۔اور ہمیں خدا کی قسم ! اگر حضرت عمر فوت ہو گئے تو ہم صرف فلاں شخص کی بیعت کریں گے اور کسی کی نہیں کریں گے۔11 جس طرح غلام رسول نمبر 35 اور اس کے ساتھیوں نے کہا کہ خلیفہ ثانی فوت ہو گئے تو ہم صرف عبد المنان کی بیعت کریں گے۔دیکھو! تو یہ بھی حضرت عمرؓ سے مشابہت ہوگئی۔حضرت عمر کے زمانہ میں بھی ایک شخص نے قسم کھائی تھی کہ ہم اور کسی کی بیعت نہیں کریں گے فلاں شخص کی کریں گے۔اس وقت بھی غلام رسول نمبر 35 اور اس کے بعض ساتھیوں نے یہی کہا ہے۔جب حضرت عمر کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے یہ نہیں کیا جیسے مولوی علی محمد اجمیری نے شائع کیا تھا کہ آپ پانچ وکیلوں کا ایک کمیشن مقرر کریں جو تحقیقات کرے کہ بات کون سی سچی ہے۔حضرت عمر نے ایک وکیل کا بھی کمیشن مقرر نہیں کیا اور کہا میں کھڑے ہو کر اس کی تردید کروں گا۔بڑے بڑے صحابہ اُن کے پاس پہنچے اور انہوں نے کہا حضور ! یہ حج کا وقت ہے اور چاروں طرف سے لوگ آئے ہوئے ہیں، ان میں بہت سے جاہل بھی ہیں ان کے سامنے اگر آپ بیان کریں گے تو نہ معلوم کیا کیا باتیں باہر مشہور کریں گے۔جب رینہ میں جائیں تو پھر بیان کریں۔چنانچہ جب حضرت عمر حج سے واپس آئے تو مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر کھڑے ہو گئے اور کھڑے ہو کر کہا کہ اے لوگو! مجھے خبر ملی ہے کہ تم میں سے کسی نے کہا ہے کہ ابو بکر کی بیعت تو ایک اچانک واقعہ تھا اب اگر عمر مر جائے تو ہم