انوارالعلوم (جلد 26) — Page 36
انوار العلوم جلد 26 36 خلافت حقہ اسلامیہ اور نظام آسمانی کی مخالفت مقررہ اشخاص اُس کا انتخاب کریں گے۔اس کے بعد وہ یہ قسم کھائے گا کہ میں خلافتِ احمد یہ حقہ پر ایمان رکھتا ہوں اور میں ان کو جو خلافتِ احمدیہ کے خلاف ہیں جیسے پیغامی یا احراری و غیرہ باطل پر سمجھتا ہوں۔اب ان لوگوں کو دیکھ لو۔ان کے لئے کس طرح موقع تھا۔میں نے مری میں خطبہ پڑھا اور اس میں کہا کہ صراط مستقیم پر چلنے سے سب باتیں حل ہو جاتی ہیں۔یہ لوگ بھی صراط مستقیم پر چلیں۔اور اس کا طریق یہ ہے کہ پیغامی میرے متعلق کہتے ہیں کہ یہ حضرت خلیفہ اول کی ہتک کر رہا ہے۔یہ اعلان کر دیں کہ پیغامی جھوٹے ہیں۔ہمارا پچھلا میں سالہ تجربہ ہے کہ پیغامی ہتک کرتے چلے آئے ہیں۔اور مبائعین نہیں کرتے رہے۔مبائعین صرف دفاع کرتے رہے ہیں۔مگر باوجود اس کے ان کو توفیق نہیں ملی اور یوں معافی نامے چھاپ رہے ہیں۔ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے یہ اعلان کیا تو ہمارا اڈہ جو غیر مبائعین کا ہے اور ہمارا اڈہ جو احراریوں کا ہے وہ ٹوٹ جائے گا۔سو اگر اڈہ بنانے کی فکر نہ ہوتی تو کیوں نہ یہ اعلان کرتے۔مگر یہ اعلان کبھی نہیں کیا۔چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے مجھے سنایا کہ عبدالمنان نے اُن سے کہا ہم اس لئے لکھ کر نہیں بھیجتے کہ پھر جرح ہوگی کہ یہ لفظ کیوں نہیں لکھا ، وہ لفظ کیوں نہیں لکھا۔حالانکہ اگر دیانتداری ہے تو بیشک جرح ہو حرج کیا ہے۔جو شخص حق کے اظہار میں جرح سے ڈرتا ہے تو اس کے صاف معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ حق کو چھپانا چاہتا ہے اور حق کے قائم ہونے کے مخالف ہے۔غرض جب تک شوری میں معاملہ پیش ہونے کے بعد میں اور فیصلہ نہ کروں اوپر کا فیصلہ جاری رہے گا۔تمہیں خوشی ہو کہ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت چلی تھی واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ تمہارے اندر بھی اُسی طرح چلے گی۔مثلاً حضرت ابو بکر کے بعد حضرت عمر خلیفہ ہوئے۔میرا نام عمر نہیں بلکہ محمود ہے مگر خدا کے الہام میں میرا نام فضل عمر رکھا گیا اور اس نے مجھے دوسرا خلیفہ بنادیا۔جس کے معنے یہ تھے کہ یہ خدائی فعل تھا۔خدا چاہتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خلافت بالکل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کی خلافت کی طرح ہو۔میں جب خلیفہ ہوا ہوں تو ہزارہ سے ایک شخص آیا۔اُس نے کہا کہ میں نے خواب دیکھی تھی